پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

موسمِ گرماکے بد اثرات سے بچنے کیلئے لیموں کی سکنجبین اور دودھ کی لسی بہترین مشروب،کھیرا ، خربوزہ اور تربوز وغیرہ کھانے کے دوران پانی نہ پیا جائے ،حکما کے مشورے

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی )بدلتے موسم کے لحاظ سے آنے والے سخت گرم موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ابتدا میں ہی مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے،موسم گرماکے بُرے اثرات سے بچنے اور پیاس بجھانے کے لیے روائتی مشروبات مثلا لیموں کی سکنجبین، دودھ کی لسی، ستو ، لسی ، شربت صندل ، بزوری اور سردائی وغیرہ استعمال کرنا مفید ہے ۔

یہ نا صرف پیاس بجھاتے ہیں بلکہ جسم انسانی میں نمکیات کے توازن کو بھی قائم رکھتے ہیں، موسم گرما میں گرم اور مرغن غذاؤں کے استعمال کو جاری رکھنا بھی صحت کیلئے مفید نہیں۔ان خیالات کا اظہاربدلتے موسم کی احتیاطی تدابیر کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی، پروفیسر حکیم سید عمران فیاض، حکیم محمد افضل میو ، حکیم احمد حسن نوری، حکیم حامد محمود، حکیم عطاالرحمن صدیقی،حکیم محمد اسماعیل، حکیم امجد وحید بھٹی،حکیم محمد ابو بکر، حکیم محمد اسحق، حکیم محمد احمد،حکیم فیصل طاہر صدیقی، ڈاکٹر سکندر حیات زاہد اورحکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل نے گفتگو کرتے ہوئے کیا -انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے مسائل سے بچنے کے لیے روائتی مشروبات کے ساتھ ساتھ تازہ اور قدرتی غذائوں کو استعمال کرنا چاہیے ۔کھیرا ، خربوزہ اور تربوز وغیرہ کھانے میں احتیاط سے کام لیں اور ان پھلوں کے کھانے کے دوران پانی نہ پیا جائے -انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے بد اثرات اور صحت کے تقاضے کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسم کے بد اثرات میں لو لگنا ، پسینے کی کثرت ، ہیضہ ، اسہال ، بخار ،تھکاوٹ اور کمزوری وغیرہ شامل ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھانا جب بھی کھائیں گرم کرکے کھائیں اور گلے، سڑے اور بازاری کھانوں سے اجتناب کیا جائے ۔ اس کے علاوہ کولا مشروبات کے استعمال سے پرہیز کرنا بھی صحت کے لیے ضروری ہے کیونکہ ان کے استعمال سے جسم میں پانی کی کمی ہو نے کے ساتھ ساتھ جسم سے نمکیات خارج ہو جاتے ہیں اور تیزابیت بھی بڑھ جاتی ہے جو کئی امراض کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…