جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

خطرناک جانوروں کا زہر انسانی زندگیاں بچانے میں معاون

datetime 28  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ خطرناک جانوروں کا زہر انسانی زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ زہریلے جانوروں کے زہر پر تحقیق کرنے والے سائنس دان ڈاکٹر زولتان ٹکاس نے کہا ہے کہ خطرناک جانوروں کے زہر کو ادویات میں شامل کرکے انسانی زندگیاں بچائی جارہی ہیں۔ سائنس دان ڈاکٹر زولتان کے مطابق صرف سانپ کے زہر کے زہریلے اثرات ایسے ہیں۔

جنہیں اس زمین پر ارتقا نے خاص طور پر منتخب کیا ہے، سانپ کا زہر ایک منٹ سے کم میں انسانی زندگی ختم کردیتا ہے۔ ادویات کے ماہر ڈیوڈ واریل کے مطابق 2015 میں 2 لاکھ افراد سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خطرناک جانوروں کے زہر سے انسانی زندگی کو بچانے کے لیے مزید تحقیق جاری ہیں جبکہ تین خطرناک جانوروں کے زہر کو ادویات میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے جن میں سانپ، کموڈو ڈریگن، کیکڑا شامل ہے۔ سانپ کا زہر سانپ کے زہر کا تریاق کرنے والے ممالک میں میکسیکو، بھارت، آسٹریلیا، برازیل، کوسٹاریکا اور جنوبی افریقہ سرفہرست ہیں۔ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ خوفناک سانپ آب دل اور دیگر امراض کے شکار افراد کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے زہر میں خون کو پتلا رکھنے اور اس کے لوتھڑے بننے سے بچانے کی صلاحیت دیکھی گئی ہے۔ سانپ کے زہر سے متعلق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سانپ کا زہر جن ادویات میں استعمال ہورہا ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک شامل ہیں۔ انڈونیشیا کے جزائر میں پایا جانے والا کموڈو ڈریگن دنیا کا نایاب جانور ہے، اسے دنیا کی سب سے بڑی چھپکلی مانا جاتا ہے، یہ جاندار سخت گرم ماحول میں اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے، تقریباً پانچ چھوٹے جزیروں میں ایک اندازے کے مطابق چار سے پانچ ہزار ڈریگن پائے جاتے ہیں۔ اس کے منہ میں خطرناک زہریلے بیکٹریا پائے جاتے ہیں جو انسانی موت کا سبب بن چکے ہیں حتیٰ کہ اس کا دیا ہوا معمولی زخم بھی انسانی جان لے لیتا ہے۔ کموڈو ڈریگن کا زہر امراض قلب کی ادویات میں استعمال ہوتا ہے جو دل میں بنے ہوئے خون کے ٹکڑوں (کلاتس) کو ختم کردیتی ہے۔ سن 2008 کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کیکڑے کے زہر سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ 3250 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ کیکڑے کے زہر سے بنی ادویات موذی مرض کینسر کی تشخیص اور اُس کے علاج میں کارآمد بھی ثابت ہوئیں، اس کے علاوہ رسولی کا علاج بھی ان کے زہر سے بنی ادویات سے ممکن نظر آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…