منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

ہر تمباکو نوش کی موت ،سات ہزار ڈالر کا فائدہ

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

لندن (نیوزڈیسک )دنیا بھر میں ہر سال تمباکو نوشی اور اس سے جڑی بیماریوں کے باعث جو چھ ملین سے زائد انسان ہلاک ہو جاتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اوسطا عالمی ٹوبیکو انڈسٹری کو سات ہزار امریکی ڈالر کے برابر فائدہ پہنچاتا ہے۔برطانوی میڈیاکی رپورٹوں کے مطابق یہ بات بین الاقوامی سطح پر انسانی صحت کے تحفظ کے لیے کوشاں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خلاف سرگرم تنظیم ورلڈ لَنگ فاونڈیشن World Lung Foundation کی طرف سے بتائی گئی ہے۔WLFنامی اس تنظیم کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں 5.8 ارب سے زائد سگریٹ پیے گئے۔ اس سے ایک سال پہلے 2013 میں بھی یہ تعداد قریب اتنی ہی رہی تھی۔ مجموعی طور پر دنیا کے محض چند ملکوں میں اگر تمباکو نوشی کے رجحان میں زیادہ عوامی شعور کے نتیجے میں کمی ہوئی ہے تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں یہ جان لیوا رجحان مسلسل زیادہ ہو رہا ہے۔ڈبلیو ایل ایف اور امریکی کینسر سوسائٹی کی طرف سے تمباکو نوشی اور اس کے اثرات کے حوالے سے ہر سال جو عالمی ’ٹوبیکو اٹلس‘ تیار کی جاتی ہے، اس کے تازہ ترین ایڈیشن میں شامل تفصیلی اعداد و شمار سال 2013ءکا احاطہ کرتے ہیں۔نئی گلوبل ٹوبیکو اٹلس کے مطابق 2013ء میں تمباکو کی عالمی صنعت کو مجموعی طور پر 44 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ اسی دوران تمباکو نوشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے ہاتھوں دنیا بھر میں 6.3 ملین سے زائد انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔ان اعداد و شمار کے مطابق اس طرح پوری دنیا میں سگریٹ نوشی یا دوسری شکلوں میں تمباکو کی دیگر مصنوعات کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے ہاتھوں مرنے والا ہر انسان تمباکو کی عالمی صنعت کے لیے سات ہزار امریکی ڈالر کے برابر خالص منافع کا سبب بنا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی اور اس کے اثرات کا موجودہ رجحان جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک تمباکو کے فعال یا غیر فعال استعمال کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے انسانوں کی کل تعداد ایک ارب تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں تمباکو نوشی کا رجحان اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ وہاں پندرہ برس سے زائد عمر کا ہر شہری اوسطا سال بھر میں سوا دو ہزار سگریٹ پیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…