کمزو ر معیشت کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں نے ملکی سلامتی کو دائو پر لگادیا

  جمعرات‬‮ 8 اپریل‬‮ 2021  |  0:09

لاہور(این این آئی )تاجر رہنما و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین نے کہا ہے کہ کمزور معیشت کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں نے ملکی سلامتی کو دائو پر لگادیا ہے ۔ملک کے سارے اقتصادی نظام میں فوری اور حقیقی اصلاحات لائی جائیں کیونکہ معیشت بریک تھرو سے کوسوں دور ہے کمزورمعیشت کی وجہ سے دیگر ممالک اور عالمی اداروں کی ایسی شرائط قبول کی جارہی ہیں جو ملکی مفادات کے خلاف اور کاروباری طبقوںکے لیے پریشان کا باعث ہے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ملک میں نت


نئے ٹیکسوں کے نفاذ، بجلی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گردشی قرضوں کی بجلی صارفین سے وصولی کے باعث صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے اشیاء مہنگی اور ملک میں ہوشربا مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ حکومت اربوںروپے کے پیکجز اور سبسڈیوں کے ذریعے کبھی ایک شعبہ کو بہتر بناتی ہے کبھی دوسرے شعبے کو ترقی دیتی ہے مگر ہماری معیشت کسی بھی قابل ذکربریک تھرو سے کوسوں دور ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کو اولین ترجیح کبھی دی ہی نہیں گئی۔انہوںنے کہا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں زیاد تر تنازعات اور سیاسی افراتفری کے پس منظر میں کمزور معیشت ہی ہوتی ہے اکنامک سیکیورٹی کے بغیر نیشنل سیکیورٹی کا تصور محال ہے ۔تاریخ شاہد ہے کہ انتہائی طاقتور ممالک کمزور معیشت کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت کو صنعتکاری کے فروغ ،معاشی خود کفالت اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے ترجیحات متعین کرنا انتہائی ضروری ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎