اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

20 روپے یونٹ بجلی کے بل سے انڈسٹری نہیں چل سکتی حکومت کو صاف صاف بتا دیا گیا

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکسٹائل صنعتوں کو تمام سرچارجز سمیت بجلی کے بل ادا کرنا پڑے تو پنجاب کی متعدد ملیں بند ہو جائیں گی۔برآمدی ٹیکسٹائل صنعتوں کو سرچارجز سمیت بجلی کے بل ملنے پر اپٹما نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ لیسکو نے ٹیکسٹائل صنعتوں کو تمام سرچارجز عائد کرکے بجلی کے بل بھجوا دئیے

اور اس طرح ٹیکسٹائل ملوں کوبجلی 20 روپے فی یونٹ میں پڑے گی۔بیان میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عائد سر چارج وصول کرنے سے روک دیا تھا، قائمہ کمیٹی نے سرچارج کا معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کا کہا تھا، وزیراعظم نے بھی جنوری 2019 میں سر چارجز ختم کردیئے تھے تاہم بیورو کریسی وزیر اعظم کے فیصلوں پر عمل نہیں کر رہی،حکومت کو ناکام بنایا جارہاہے۔اپٹما کے مطابق اس سے قبل ٹیکسٹائل صنعتیں تقریباً 12 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کر رہی تھیں، 20 روپے فی یونٹ بجلی کے بل سے انڈسٹری نہیں چل سکتی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…