2034ء میں پاکستان دنیا میں معاشی طاقت کے لحاظ سے کتنی پوزیشن پر براجمان ہو جائے گا ؟ امریکااور چین میں سخت مقابلہ ، بھارت کی پوزیشن بھی واضح ہو گئی

  پیر‬‮ 30 دسمبر‬‮ 2019  |  16:04

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2034ء میں چین پہلی، امریکا دوسری، بھارت تیسری اور پاکستان 50؍ ویں معاشی طاقت ہوگا ۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دنیا کے 193؍ ممالک میں پاکستان معاشی لحاظ سے 44؍ ویں نمبر پر جبکہ امریکا پہلی، چین دوسری، جاپان تیسری، جرمنی چوتھی ،بھارت پانچویں معاشی طاقت ہے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں تھنک ٹینک نے پاکستان کو 2028ء میں 37؍ ویں اور 2033ء میں 27؍ ویں معاشی طاقت بتایا تھا۔ 2019میں جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان کی معاشی


نمو تین عشاریہ تین فیصد رہی جبکہ 2018ء میں یہ شرح ساڑھے پانچ فیصد تھی۔ ورلڈ اکنامک لیگ ٹیبل 2020ء کے نام سے 234؍ صفحات کی رپورٹ میں 193؍ ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان 2003ء میں 44؍ ویں ، 2008ء میں 50؍ ویں، 2013ء میں 48ویں ، 2018ء میں41ویں نمبر پر تھا، 2019ء میں 44؍ ویں درجے پر ہے 2020ء میں بھی 44؍ ویں نمبر ہی رہے گا۔ 2024ء اور 2029ء میں 46 ویں اور 2034ء میں 50؍ ویں نمبر پر ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان فی کس جی ڈی پی5872ڈالر کے ساتھ ایک وسط آمدنی والا ملک ہے، بے روزگاری کی شرح چھ عشاریہ ایک فی صد پر ہے۔2020سے2025کے درمیان جی ڈی پی گروتھ4عشارہ 2فی صد متوقع ہے۔جو سالانہ پانچ فی صد تک جاسکتی ہے۔ تھنک ٹینک نے گزشتہ سال کی رپورٹ میں کہا تھا کہ سیکورٹی مسائل اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کی ترقی کی رفتار سست کردی جس کی وجہ سے اپنے ہمسایہ ممالک چین اور بھارت کی رفتار سے ترقی نہیں کرسکا ۔ پاکستان دنیا کے بڑے ٹیکسٹائل برآمدکنندگان سے ایک ہے اس کا زرعی شعبہ معیشت کا ایک کلیدی حصہ ہے ،جوجی ڈی پی کا تقریبا ًایک چوتھائی حصہ ہے۔اور تقریبا 42 فیصد افرادی قوت کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔پاکستان 2018 میں ادائیگیوں کیے توازن کے شکار ہوا ،غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر سے کم ہو گئے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6 فیصد تک بڑھ گیا جس کی وجہ سے 1980 سے اب تک ملک کو 12ویں بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ۔2018 میں متعدد عوامل میں تیل کیقیمتوں میں اضافہ سمیت متعدد عوامل کی وجہ سے درآمدات کی طلب کو پورا کرنے میں برآمدات کا نہ ہونا تھا۔سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کا قرض لیا اسکے علاوہ اکتوبر میں 3 ارب ڈالر کی تیل کی ادائیگی کوموخر کیا ، جبکہ چین نے بھی امداد کا وعدہ کیا ، ان پیشرفتوں نے فی الحال بحران کو ختم کردیا ، لیکن دوبارہ ایسی صورتحال سے گریز کے لئے اہم معاشی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔امریکی فیڈرل ریزرو کی طرف سے مالیاتی پالیسی پر سختی سے پاکستانی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تیس فی صد کم ہوگئی ،مرکزی بینک نے کرنسی کے استحکام کیلئے کئی بار شرح سود میں اضافہ کیا ۔ جس سے اقتصادی ترقی اور ، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کے شعبے پر بوجھ پڑا ۔عمران حکومت نے خسارے سے نمٹنے کیلئے متعدد اقدامات کیے انکم ٹیکس میں اضافہ، زیادہ کمانے والوں سے ٹیکس وصولی اور ملکی انفرااسٹرکچر منصوبوں پر کم خرچ شامل ہے ، کرنسی کو مستحکم کرنے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے پر قابو پانے کیلئے5 ہزار اشیا پر محصولات بڑھا دیئے گئے ہیں۔

موضوعات: