جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بٹ کوائن رکھنے والے کنگال ،قیمت19800 ڈالرپر پہنچ کر یکدم کتنی گرگئی،سرمایہ کارہکا بکا

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (آن لائن)دسمبر 2017 کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ بٹ کوائن کی قیمت دس ہزار امریکی ڈالر سے کم ہوگئی ہے۔کریپٹو کرنسیوں کی قیمت کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ کوائن ڈیشک کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت 9958 ڈالر تک گرنے کے بعد تھوڑی سی بہتر ہوئی۔تاہم اس کے بعد وہ پھر گر کر 9200 ڈالر ہوگئی۔ پانچ ہفتے قبل اپنے عروج یعنی 19800 ڈالر کے مقابلے میں یہ تقریبا 53 فصد کمی ہے۔دیگر کریپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی

تیزی سے کمی دیکھی گئی جن میں ایتھیریئم، ریپل، اور بٹ کوائن کیش شامل ہیں۔ماہرین کو اس حوالے سے بھی خدشات تھے کہ یہ ایک مالیاتی ببل ہے کیونکہ غیر پیشہ ورانہ سرمایہ کاروں کو اس کرنسی کی سمجھ نہیں مگر پھر بھی انھوں نے اس میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔بٹ کوائن کی قیمت میں رد و بدل کے پیچھے کون سے عناصر ہوتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے اور روایتی کرنسیوں اور کموڈیٹیز کے مقابلے میں یہ زیادہ غیر مستحکم رہا ہے۔ ادھر یہ خوف بھی پایا جاتا ہے کہ شاید حکومتیں اس کی تجارت پر پابندی لگا دیں گی۔خاص طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جنوبی کوریا اس پر جلد پابندی لگا دیں گے۔ منگل کے روز جنوبی کوریا کے وزیرِ خزانہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت کا موقف یہ ہے کہ اسے کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کرنی ہے کیونکہ یہ ایک سپیکیلیٹو انویسٹمنٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ ورچوئل کرنسی ایکسچینجوں کو بند کرنا حکومت کا ایک آپشن ہے۔اسی ہفتے بلوم برگ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ چینی حکام کریپٹو کرنسیوں کے تجارتی پیلٹ فارمز تک رسائی کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…