جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سائبر ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

نیویارک (آن لائن)سائبر ورچوئل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت پہلی بار نو ہزار ڈالرز سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس کی قدر میں لگ بھگ 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انٹرنیٹ کی اس کرنسی نے بیس نومبر کو ہی 8 ہزار ڈالرز کا سنگ میل طے کیا تھا جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں ہی پہلی بار 7 ہزار ڈالرز کی حد کو چھوا تھا۔بٹ کوائن نے اگست میں پہلی بار چار ہزار ڈالرز کی حد کو عبور کیا، اکتوبر میں پہلے

پانچ اور پھر چھ ہزار ڈالرز کو عبور کیا اور اب اسے ڈیجیٹل کرنسی کی جگہ لوگ ڈیجیٹل گولڈ کی شکل میں دیکھنے لگے ہے جو ان کے خیال میں ذخیرہ کرنا مستقبل میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔اس کرنسی کے ایک یونٹ یا ایک سکے کی قیمت اس وقت 9143 ڈالرز (9 لاکھ 61 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) تک پہنچ چکی ہے۔یعنی آپ ایک بٹ کوائن سے 20 تولے کے قریب سونا خرید سکتے ہیں۔تمام بٹ کوائنز کی مجموعی مالیت اس وقت 152 ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔پہلے کہا جارہا تھا کہ یہ کرنسی رواں سال کے آخر میں دس ہزار ڈالرز کی حد عبور کرسکے گی مگر موجودہ تیزی کو دیکھ کر تو کہا جاسکتا ہے کہ 2017 کے اختتام پر یہ 12 سے 15 ہزار ڈالرز تک بھی پہنچ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بڑے ادارے بھی اب اس میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔رواں سال کے دوران بٹ کوائن کی قدر ڈالر کے مقابلے میں سیکڑوں فیصد بڑھ چکی ہے جس کی وجہ اہم کمپنیوں کی جانب سے اسے اپنانا ہے اور اس کے حوالے سے لوگوں میں زیادہ شعور پیدا ہونا ہے۔خیال رہے کہ 2017 کے آغاز میں ایک بٹ کوائن کو صرف 966 ڈالرز میں خریدا جاسکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…