سابق پاکستانی کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی تشویش پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سابق کپتان اور دیرینہ دوست کو بہت یاد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران وسیم اکرم نے عمران خان کے ساتھ اپنی کئی دہائیوں پر محیط دوستی، اپنے ابتدائی کرکٹ کیریئر میں سابق کپتان سے ملنے والی رہنمائی اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان ان کے دوست ہیں اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان سے بات نہ ہونے پر انہیں ان کی بہت یاد آتی ہے۔
وسیم اکرم کے مطابق انہوں نے تقریباً 3 سال سے عمران خان سے گفتگو نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی طور پر عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے، تاہم عدالتی معاملات اپنی جگہ ہیں، لیکن سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت یا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
سابق فاسٹ بولر نے واضح کیا کہ ان کی تشویش کسی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دوست کی حیثیت سے ہے۔ ان کے بقول عمران خان سزا یافتہ ہیں یا نہیں اور جیل میں ہیں یا نہیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی صحت اور زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس اطلاع پر یقین کیا جائے، کیونکہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی صحت کو بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔
وسیم اکرم نے عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم کے ایک انٹرویو کا بھی ذکر کیا، جو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران نشر کیا گیا تھا۔ اس انٹرویو کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسکائی اسپورٹس سے شکایت کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے باعث پروگرام کی نشریات میں مختصر تاخیر ہوئی۔
اس معاملے کے دوران یہ امکان بھی زیر بحث آیا کہ اگر پاکستان کرکٹ ٹیم میدان میں نہ اتری تو احتجاج کیا جاسکتا ہے، تاہم بعد میں انٹرویو نشر کردیا گیا اور قومی ٹیم مقررہ وقت پر کھیل کے لیے میدان میں موجود تھی۔
وسیم اکرم نے بتایا کہ مذکورہ انٹرویو کے بعد پاکستان میں اس معاملے پر کافی بحث ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت کی جانب سے عمران خان سے ملاقاتوں اور ٹیلی فون کالز سے متعلق فراہم کی گئی تفصیلات بھی دیکھیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس بات کو درست سمجھا جائے۔
وسیم اکرم اور عمران خان کا تعلق کرکٹ کے میدان سے کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ وسیم اکرم نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں عمران خان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے ان سے رہنمائی حاصل کی اور انہیں اپنے اہم مینٹورز میں شمار کیا۔
دریں اثنا، گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کی صورتحال کے حوالے سے کرکٹ سے وابستہ کئی شخصیات نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 22 سابق کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام ایک کھلے خط میں عمران خان کے بنیادی وقار اور ضروری ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ان کے ذاتی ڈاکٹر اور اہلخانہ کو رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔
آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز نے بھی ان خدشات کی حمایت کی، جبکہ سابق ویسٹ انڈین بلے باز برائن لارا نے عمران خان کو کرکٹ کا لیجنڈ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ بنیادی انسانی ہمدردی کا برتاؤ یقینی بنانے پر زور دیا۔
پاکستان کے سابق کرکٹرز کی جانب سے بھی عمران خان کی صحت اور جیل کی صورتحال پر آواز اٹھائی گئی ہے۔ جاوید میانداد نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی اور حکومت و سابق وزیراعظم کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ معین خان اور رمیز راجا نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔



















































