پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

رام چرن کی اہلیہ 77 ہزار کروڑ کی وارث، خاندانی آئین نے سب کو برابر کردیا

datetime 8  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی فلمی ستارے رام چرن کی اہلیہ اپاسنا کامینینی کا شمار بھارت کے ممتاز کاروباری خاندانوں میں ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وہ ایک ایسے کاروباری گروپ کی وارث ہیں جس کی مجموعی مالیت تقریباً 77 ہزار کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔

رام چرن اور اپاسنا کی ازدواجی زندگی کو 14 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اپاسنا معروف کامینینی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جو خاص طور پر صحت اور طبی خدمات کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ سماجی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں اپاسنا نے بتایا کہ ان کے خاندان میں جائیداد اور وراثت کے معاملات کو منظم رکھنے کے لیے ایک تحریری خاندانی آئین موجود ہے۔ اس ضابطے کا مقصد مستقبل میں کسی بھی قسم کے اختلاف یا تنازع سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندان میں خواتین اور مردوں کو یکساں حقوق دیے جاتے ہیں اور وراثت کی تقسیم بھی مساوی اصولوں کے تحت کی جاتی ہے۔ ان کے بقول خاندان کے تمام افراد ان اصولوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ صرف قانونی نکات نہیں بلکہ خاندان کی بنیادی اقدار کا حصہ ہیں۔

اپاسنا کامینینی کو سماجی خدمات اور فلاحی کاموں میں نمایاں کردار ادا کرنے پر دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں فوربز کی معروف فہرست “ٹائیکون آف ٹومارو” میں بھی شامل کیا گیا، جو ان کی کاروباری اور سماجی کامیابیوں کا اعتراف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…