ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

والدین کی ذمہ داریاں کبھی بھی ففٹی ففٹی نہیں ہوتیں، ثانیہ مرزا

datetime 30  اپریل‬‮  2025 |

ممبئی (این این آئی)مایہ ناز ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے بچوں کیلئے ماؤں کی قربانیوں سے متعلق گفتگو میں کہا ہے کہ والدین کی ذمہ داریاں کبھی بھی 50ـ50 نہیں ہوتیں، ماں ہمیشہ زیادہ کرتی ہے، یہ دنیا ماں کیلئے برابر نہیں۔پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی سابقہ اہلیہ اور بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے ناصرف کھیلوں میں اپنی الگ پہچان بنائی بلکہ ماں بن کر بھی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔حالیہ دنوں میں ثانیہ مرزا نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے ماں بننے کے سفر، جسمانی اور ذہنی مشکلات اور والدین کی غیر مساوی ذمہ داریوں پر کھل کر بات کی۔ثانیہ نے بتایا کہ اگرچہ بیٹے کی ہیدائش سے پہلے کا عرصہ کافی اچھا رہا، لیکن پیدائش کے بعد بچے کو دودھ پلانے کا مرحلہ بہت مشکل ثابت ہوا۔

کیریئر، مصروف زندگی اور ایک ورکنگ ماں ہونے کی حیثیت سے میری جدوجہد الگ تھی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف 6 ہفتے بعد جب میں کام پر واپس گئی، تو ہوائی جہاز میں انہیں شدید عجیب محسوس ہوا، میں روتی تھی جب اپنے بچے کو پیچھے چھوڑ کر جاتی تھی۔ثانیہ نے کہا کہ والدین کی ذمہ داریاں کبھی بھی 50ـ50 نہیں ہوتیں، ماں ہمیشہ زیادہ کرتی ہے، یہ دنیا ماں کیلئے برابر نہیں، یہ صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر جگہ یہی حال ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ماں جذباتی، جسمانی اور وقت کے اعتبار سے کہیں زیادہ قربانی دیتی ہے، چاہے وہ کسی بھی طبقے یا پیشے سے ہو۔ثانیہ کے اس بیان پر خواتین کی بڑی تعداد نے ان سے اتفاق کیا، سوشل میڈیا صارفین کہنا ہے کہ ایک کھلاڑی ہو کر بھی وہ اپنی ماں ہونے کو سب سے اوپر رکھتی ہیں، ماں ہونا سب سے مشکل اور خوبصورت ذمہ داری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…