بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کرکٹ کی دنیا کی مہنگی ترین ٹی20 لیگ ‘ سعودی عرب کے خفیہ منصوبے کا انکشاف

datetime 17  مارچ‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ٹینس کے گرینڈ سلیمز کی طرز پر کرکٹ کی مہنگی ترین لیگ متعارف کرائے جانے کا منصوبہ سامنے آ گیا آئی پی ایل کی بادشاہت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرکٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اب کرکٹ کے میدان میں بھی قدم رکھ رہا ہے اور عالمی سطح کی ٹی 20 لیگ کے لیے 500 ملین ڈالر تک سرمایہ کاری پر آمادہ ہے۔

اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچے سے آئی پی ایل کی بالادستی چیلنج ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ کرکٹ لیگ میں 8 ٹیمیں ہوں گی اور اس کو ٹینس کے ماڈل اور گرینڈ سلیمز کے طرز پر رکھنے کی تجویزہے اور حصہ لینے والی ٹیمیں سال بھر 4 مختلف مقامات پر میچز کھیلیں گے اور اسی طرح ٹیموں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔یہ منصوبہ آسٹریلیا کے سابق آل راؤنڈر نیل میکسویل کا شاخسانہ ہے، جو آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز کے منیجر بھی ہیں اور اس کے علاوہ آسٹریلیا کرکٹرز ایسوسی ایسن اور کرکٹ این ایس ڈبلیو کے سابق بورڈ ممبر بھی ہیں۔اس کے علاوہ اس منصوبے میں سعودی عرب کی ایس آر جے اسپورٹس انویسٹمنٹس بھی شریک ہے، جس کی سربراہی ڈینی ٹاؤن سینڈ کر رہے ہیں، جو کہ آسٹریلیا کے پروفیشنل لیگز کے فٹ بال کے سابق چیف ایگزیکٹو ہیں۔

اس طرح کی لیگ کے پیچھے مقصد ٹیسٹ کرکٹ کو بچانے اور ویسٹ انڈیز جیسے کمزور بورڈز کو سپورٹ کرنے جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے آمدنی کا ایک نیا سلسلہ پیدا کرنا ہے۔لیگ کے بارے میں کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ نہیں ہے لیکن رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ لیگ کسی بڑے T20 ٹورنامنٹ سے نہیں ٹکرائے گی اور اسے الگ ونڈو میں کھیلا جائے گا۔ ٹیمیں نئی فرنچائزز ہوں گی، جن میں آسٹریلیا اور سعودی عرب کی ایک ٹیم شامل ہے۔ لیگ میں مردوں اور خواتین کے مقابلے ہوں گے۔ فائنل سعودی عرب میں ہو سکتا ہے۔تاہم اس لیگ کے منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اسے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی سے اجازت درکار ہوگی۔ حتمی فیصلہ آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ پر منحصر ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ لیگ ہونے کی صوت میں کرکٹ بورڈز، خاص طور پر بی سی سی آئی کو اپنے کھلاڑیوں کو لیگ کھیلنے کے لیے بھیجنے جیسے دیگر چیلنجز بھی ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں جب کہ بھارتی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کی خصوصیت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر T20 لیگ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…