جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چیمپئنز ٹرافی’ پاک بھارت تنازع، اّئی سی سی بھی مالی نقصان کی زد میں

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

لندن (این این آئی)چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کا تنازع حل نہ ہوا تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (اّئی سی سی) بھی مالی نقصان کی زد میں اّئے گا۔بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی اّئی) کے رویے کے خلاف پاکستانی پالیسی موجودہ سائیکل میں اّئی سی سی کی اّمدن پر اثر انداز ہوگی۔پاکستانی حکومت اّئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کے نہ اّنے پر اس سے میچز کے بائیکاٹ کا کہہ چکی ہے۔

اّئی سی سی شیڈول کے مطابق بھارت کو 2024ء سے 2031 ء کے دوران 4 اّئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کرنی ہے۔پاکستانی حکومت کی ٹیم کو بھارت نہ جانے دینے کی پالیسی ان ایونٹس میں گرین شرٹس کی شرکت ناممکن بناسکتی ہے۔بھارت میں اگلے برس ویمن ورلڈ کپ، 2026ء میں ٹی 20 ورلڈ کپ، 2029ء میں اّئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور 2031ء میں ورلڈ کپ کی میزبانی کرنی ہے۔پاکستان کا ان اّئی سی سی ایونٹس سے دستبردار ہونا براڈ کاسٹنگ ریونیو پر اثرانداز ہوگا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پہلے ہی2027ء تک کے براڈکاسٹ رائٹس 3 اعشاریہ 2 بلین ڈالرز میں فروخت کرچکی ہے۔

اّئی سی سی ایونٹس سے پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں رائٹس کی ویلیو کم ہونے کا خدشہ ہوگا، یہی ریونیو بعد میں ممبر بورڈز میں تقسیم کیا جاتا ہے، اّمدن میں کمی کا اثر تمام بورڈز پر پڑے گا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مقابلوں کو عوام کی بڑی تعداد نے دیکھا ہے، اّئی سی سی براڈکاسٹرز کی خواہش پر ہر ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ یقینی بناتا ہے۔پاکستان اور بھارت کا میچ نہ ہوا تو اّئی سی سی براڈکاسٹرز کو بھی نقصان کا سامنا رہے گا، حکومت پاکستان کی موجودہ پوزیشن کے بعد اّئی سی سی میں بھی ہلچل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…