ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

پی سی بی نے بابراعظم کا استعفیٰ منظور کرلیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2024 |

لاہور( این این آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ بابر اعظم نے منگل کی شام پاکستان مینز وائٹ بال کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ قومی سلیکشن کمیٹی کو مستقبل میں وائٹ بال کرکٹ کی حکمت عملی بنانے کا عمل شروع کرنے کا کام سونپا گیا ہے جس میں نئے کپتان کی سفارش بھی شامل ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی سی بی نے بابر اعظم کی وائٹ بال کے کپتان کے طور پر حمایت کی تھی لیکن ان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ ایک کھلاڑی کے طور پر بہت زیادہ توجہ دینے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔یہ فیصلہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور پاکستان کرکٹ سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا یقین ہے کہ اپنی بیٹنگ کے لیے خود کو پوری طرح وقف کر دینے سے وہ شارٹ فارمیٹس میں ٹیم کی کامیابی میں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکیں گے۔

پی سی بی بابر کے بطور وائٹ بال کپتان کنٹروبیشن، ٹیم کی ضروریات کو ترجیح دینے کی صلاحیت اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی غیر متزلزل لگن کو تسلیم کرتا ہے۔ پی سی بی بابر اعظم کی حمایت جاری رکھے گا، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ان کے پاس ورلڈ کلاس بیٹر اور ٹیم کے سینئر ممبر دونوں کے طور پر پیش کرنے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔بابراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے کھیلنا ہمیشہ میرے لیے سب سے بڑا اعزاز رہا ہے اور میں نے ہمیشہ ٹیم کی کامیابی کو ہر چیز پر فوقیت دی ہے۔

کپتان کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے مجھے بطور کھلاڑی ٹیم کے لیے اور بھی زیادہ کام کرنے میں مدد ملے گی اور میں اس راستے پر پوری طرح پرعزم ہوں۔ ٹیم کی کامیابی سب سے اہم ہے۔مجھے پانچ قابل ذکر سال تک پاکستان کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، ہمیشہ کپتان اور کھلاڑی دونوں کے طور پر اپنا بہترین پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مرحلے پر مجھے پختہ یقین ہے کہ میں اپنی بیٹنگ پر توجہ دے کر بڑا اثر ڈال سکتا ہوں۔

میں اپنی کپتانی کے دوران اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور پی سی بی کے مسلسل تعاون کے لیے شکر گزار ہوں۔ اگرچہ پاکستان کی قیادت کرنا ایک بہت بڑا اعزاز رہا ہے لیکن اب یہ صحیح وقت ہے کہ میں اب بیٹنگ اور ٹیم کے مقاصد پر اپنی پوری توجہ مرکوز کروں اور نئے کپتان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…