اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بابرکپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں، رضوان کو یہ ذمہ داری دی جائے، سرفراز نواز

datetime 12  جولائی  2024 |

کراچی (این این آئی)قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کیلئے شان مسعود کو کپتان برقرار رکھنے اور وائٹ بال فارمیٹ کیلئے محمد رضوان کو کپتان بنانے کی حمایت کردی ہے ۔مقامی میڈیا سے گفتگو کے دوران سرفراز نواز نے قومی سلیکشن کمیٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پوری سلیکشن کمیٹی کو نااہل کرنے کا مطالبہ کیا۔سرفراز نواز نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل پریس کانفرنس کے دوران سارے ممبرز نے تسلیم کیا تھا کہ قومی ٹیم کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا لہٰذا کمیٹی کا ہر رکن سلیکشن کا ذمہ دار ہے، سلیکشن کمیٹی نے اجتماعی طور پر نااہلی کا مظاہرہ کیا لہٰذا سب کو برطرف کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ میں نے ذکا اشرف اور محسن نقوی کو وہاب ریاض کی غیر ذمہ دارانہ صلاحیتوں سے متعلق خطوط لکھے جس کاریکارڈ بھی میرے پاس موجود ہے لیکن میری تجویز پر کسی نے عمل نہیں کیا، اچھی طرح جانتا تھا کہ وہاب کسی بھی طرح سلیکٹر، ایڈوائزر اور مینیجر کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں۔سرفراز نواز نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہاب اور عبدالرزاق جیسے افراد کی برطرفی کافی نہیں، اگر ہم سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو بڑی سرجری کی ضرورت ہے، قومی ٹیم کیلئے 3 رکنی سلیکشن کمیٹی ہونی چاہیے، صرف وہاب ریاض اور عبد الرزاق کو نکالنا کافی نہیں، اسد شفیق جو کہ خاموش تماشائی ہیں اور محمد یوسف بھی سلیکشن کمیٹی کے اہل نہیں۔

سرفراز نواز نے ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ میں محمد رضوان کی کامیاب پرفارمنس کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وائٹ بال فارمیٹس کے لیے کپتانی دینے کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ رضوان نے ماضی میں کے پی کے کو تمام ڈومیسٹک ایونٹس جیتنے میں بہترین کردار ادا کیا جب کہ بطور ملتان سلطانز کپتان ان کی کارکردگی کئی سالوں سے سب کے سامنے ہے ، وہ کپتانی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، بابراعظم میں اعتماد کم ہے وہ کپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…