جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

بابرکپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں، رضوان کو یہ ذمہ داری دی جائے، سرفراز نواز

datetime 12  جولائی  2024 |

کراچی (این این آئی)قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کیلئے شان مسعود کو کپتان برقرار رکھنے اور وائٹ بال فارمیٹ کیلئے محمد رضوان کو کپتان بنانے کی حمایت کردی ہے ۔مقامی میڈیا سے گفتگو کے دوران سرفراز نواز نے قومی سلیکشن کمیٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پوری سلیکشن کمیٹی کو نااہل کرنے کا مطالبہ کیا۔سرفراز نواز نے کہا کہ ورلڈکپ سے قبل پریس کانفرنس کے دوران سارے ممبرز نے تسلیم کیا تھا کہ قومی ٹیم کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا لہٰذا کمیٹی کا ہر رکن سلیکشن کا ذمہ دار ہے، سلیکشن کمیٹی نے اجتماعی طور پر نااہلی کا مظاہرہ کیا لہٰذا سب کو برطرف کیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ میں نے ذکا اشرف اور محسن نقوی کو وہاب ریاض کی غیر ذمہ دارانہ صلاحیتوں سے متعلق خطوط لکھے جس کاریکارڈ بھی میرے پاس موجود ہے لیکن میری تجویز پر کسی نے عمل نہیں کیا، اچھی طرح جانتا تھا کہ وہاب کسی بھی طرح سلیکٹر، ایڈوائزر اور مینیجر کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں۔سرفراز نواز نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہاب اور عبدالرزاق جیسے افراد کی برطرفی کافی نہیں، اگر ہم سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو بڑی سرجری کی ضرورت ہے، قومی ٹیم کیلئے 3 رکنی سلیکشن کمیٹی ہونی چاہیے، صرف وہاب ریاض اور عبد الرزاق کو نکالنا کافی نہیں، اسد شفیق جو کہ خاموش تماشائی ہیں اور محمد یوسف بھی سلیکشن کمیٹی کے اہل نہیں۔

سرفراز نواز نے ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ میں محمد رضوان کی کامیاب پرفارمنس کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وائٹ بال فارمیٹس کے لیے کپتانی دینے کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ رضوان نے ماضی میں کے پی کے کو تمام ڈومیسٹک ایونٹس جیتنے میں بہترین کردار ادا کیا جب کہ بطور ملتان سلطانز کپتان ان کی کارکردگی کئی سالوں سے سب کے سامنے ہے ، وہ کپتانی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، بابراعظم میں اعتماد کم ہے وہ کپتانی کیلئے بہتر انتخاب نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…