پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

رمیز راجہ آئندہ تین سال کیلئے پی سی بی کے 36ویں چیئرمین بن گئے

datetime 13  ستمبر‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن رمیز راجہ بلامقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے 36ویں چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں،وہ آئندہ تین سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کا خصوصی اجلاس 13 ستمبر کو نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں منعقد ہوا

۔یہ اجلاس پی سی بی کے الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈشیخ عظمت سعید کی زیرصدارت منعقد ہوا۔پی سی بی کے پیٹرن اور وزیراعظم عمران خان نے27 اگست کو رمیز راجہ کے علاوہ اسدعلی خان کو تین سال کیلئے پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن نامزد کیا تھا۔ان کے علاوہ عاصم واجد جواد ، عالیہ ظفر ، عارف سعید ، جاوید قریشی اور وسیم خان (چیف ایگزیکٹو پی سی بی) بھی بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہیں۔رمیز راجہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے 18ویں اورون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 12ویں کپتان ہیں۔ سال 1984 سے 1997 پر مشتمل اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیرئیر میں رمیز راجہ نے مجموعی طور پر 255 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 8674 رنز بنائے۔وہ سال 2003 سے 2004 تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو بھی رہ چکے ہیں۔وہ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔رمیز راجہ ایم سی سی کی موجودہ ورلڈکرکٹ کمیٹی کے رکن ہیں۔ان کا شمار دنیا کے معروف براڈکاسٹرز میں ہوتا ہے۔ رمیز راجہ چوتھے کرکٹر ہیں جو پی سی بی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ ان سے قبل سابق کرکٹرز عبدالحفیظ کاردار (77-1972)، جاوید برکی (95-1994)، اور اعجاز بٹ (11-2008) چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے بی او جی سے خطاب کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ میں آپ سب کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے پی سی بی کا چیئرمین منتخب کیا اور میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ ہم پاکستان کرکٹ کو میدان کے اندر اورباہردونوں مقامات پر مضبوط کریں اور پڑوان چڑھائیں۔انہوںنے کہاکہ میری پہلی ترجیح قومی کرکٹ ٹیم میں اْس سوچ، ثقافت اور نظریے کو متعارف کروانا ہے کہ جس نے کبھی پاکستان کو کرکٹ کی سب سے خطرناک ٹیم بنادیا تھا۔ ایک ادارے کی حیثیت سے ہم سب کو قومی کرکٹ ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور ان کی مطلوبہ ضروریات کوپورا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسی برانڈ کی کرکٹ کھیلیں کہ جس کی ان سے شائقین کرکٹ توقع کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ظاہر ہے کہ ایک سابق کرکٹر کی حیثیت سے ، میری دوسری ترجیح اپنے سابق اور موجودہ کرکٹرز کی فلاح و بہبود کا خیال کرنا ہوگی، یہ کھیل کرکٹرز سے ہے اور ہمیشہ انہی سے رہے گی، لہٰذا وہ اپنے ادارے سے اسی پہچان اور احترام کے مستحق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…