بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ کپ سر پر کھڑا ہے ، ٹیم مینجمنٹ کو یہ نہیں پتہ کس کھلاڑی کو کھلانا ہے اور کس کو نہیں؟عاقب جاوید کی شدید تنقید

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

لاہور (این این آئی)سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ سر پر کھڑا ہے اور ٹیم مینجمنٹ کو یہ نہیں پتہ کس کھلاڑی کو کھلانا ہے اور کس کو نہیں؟۔سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کی زمبابوے کے ہاتھوں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں شکست برس پڑے اور کہا کہ پاکستان ٹیم کا ایک ہی مسئلہ ہے جس

طرح کی حریف ٹیم ہو اتنا ہی اپنے کھیل کو نیچے لے جاتی ہے، پاکستان ٹیم کا زمبابوے سے ہارنا ہماری کرکٹ کے لیے اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقا کی آدھی ٹیم نہیں تھی لیکن پاکستان کی جیت پر سب نے تعریفیں کیں کیونکہ جیت جیت ہوتی ہے اور اس سے مورال بلند ہوتا ہے لیکن زمبابوے کے ہاتھوں شکست سے اچھا نہیں ہوا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ دو برسوں میں جس طرح کا کام مینجمنٹ نے کیا ایک کھلاڑی نہیں بنا سکے، انہیں علم ہی نہیں ہے کہ کس کو کھلانا ہے اور کس کو نہیں۔ انہوںنے کہاکہ افتخار احمد اور حسین طلعت سمیت ایک لمبی فہرست ہے جن کو آزمایا گیا، پتہ نہیں کس کس کو بلا کر یہ چانس دیتے رہے ہیں، آصف علی کو کبھی کھلا دیتے ہیں کبھی ڈراپ کر دیتے ہیں، اس کنفیوڑن سے کچھ نہیں ملنے والا۔عاقب جاوید نے کہا کہ آپ اندازہ کریں کہ محمد حفیظ کو آج بھی کوئی مات نہیں دے سکا، وہ کامیابی کے ساتھ کھیل رہے ہیں ان کی جگہ لینے والا کوئی نہیں تو اس سے پاکستان کرکٹ کے معیار کا اندازہ لگا لیں۔سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ تبدیلیوں سے ہمیں کچھ نہیں ملا، سلیکشن پالیسی واضح ہونی چاہیے، کپتان، ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کی ایک گروپ کو ساتھ لیکر چلنے والی پالیسی ہونی چاہیے لیکن یہاں ورلڈ کپ سر پر کھڑا ہے، انہیں یہ نہیں پتہ کہ دانش کو کھلانا ہے یا آصف علی کو۔انہوں نے کہا کہ

سب سے پہلے سلیکشن کا معیار درست ہونا چاہیے، ڈومیسٹک یا پی ایس ایل سے منتخب کرنے کے لیے آنکھ ہونی چاہیے کہ یہ انٹرنیشنل میں کھیل بھی سکتا ہے یا نہیں؟عاقب جاوید نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ انہیں ٹیلنٹ کی نشاندہی کرنے کی مشکل پیش آ رہی ہے، انہیں یہ نہیں پتہ چل رہا کہ جسے منتخب کر رہے ہیں وہ انٹرنیشنل معیار پر چلنے والا کھلاڑی ہے یا نہیں۔انہوںنے کہاکہ یونس خان ٹورز کے اوپر بیٹنگ نہیں سکھا سکتے، جن کرکٹرز کو کھلانا ہے ان کے ساتھ آف سیزن میں کام کریں لیکن یہ کوچز گول گول گھوم رہے ہیں، کبھی کسی کو نکال کبھی کسی کو رکھ لیں، شاید کوئی چل جائے، ایسے کام نہیں چلتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…