بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کا انعقاد کھٹائی میں پڑ گیا

datetime 23  اپریل‬‮  2021 |

لاہور ( آن لائن ) کورونا کی تیسری لہر اور کہیں چوتھی لہر نے دنیا بھر میں اودھم مچا رکھا ہے۔کورونا ویکیسن کی ایجاد کے باوجود بھی کورونا وبا ہمارے سروں سے ٹلنے کا نام نہیں لے رہی۔آئے روز اموات اور نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے

حالات بھی کورونا وبا نے دگرگوں کر دیے ہیں جس وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔بھارت بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں طوفان جیسی تیزی کے باعث ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا۔تفصیلات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، بڑھوتری کے باعث ملک کا نظام زندگی مفلوج ہو گیا، آکسیجن کی قلت پڑ گئی ہے، جبکہ وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے عوام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ احتیاط کریں بصورت دیگر لاک ڈاؤن لگانے کے راستے پر جانا ہو گا۔بھارت میں کورونا وائرس کی کیسز کی تعداد میں بڑھنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کا بغور جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے وفد کا 26 اپریل کا دورہ بھارت بھی خطرے میں پڑ گیا۔ آئی سی سی نے وفد کا موجودہ صورتحال میں بھارت جانا چیلنج قرار دیدیا۔آئی سی سی کے مطابق ٹیموں اور براڈ کاسٹرز، صحافیوں صحت اور حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔آئی سی سی کے لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔آئی سی سی وفد نے ورلڈ کپ کے لیے بھارت کے 9 مجوزہ وینیوز کا بھی جائزہ لینا ہے، آئی سی سی جائزہ لینے کے بعد وینیوز کا حتمی فیصلہ کرے گا۔یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اکتوبر، نومبر میں بھارت میں کھیلا جانا ہے۔ احمد آباد کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔ بنگلور، چنئی، دہلی، دھرم شالا، حیدر آباد، کولکتہ میزبان شہروں کی تجاویز میں شامل ہے، ممبئی اور لکھنو شہر بھی ورلڈ کپ مقابلوں کی میزبانوں کی ابتدائی فہرست میں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…