بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

شارجہ میں جاوید میانداد کے چھکے کو 35سال مکمل

datetime 18  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)شارجہ کے تاریخی میدان میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈ بیٹسمین جاوید میاں داد کے تاریخی چھکے کو 35 برس مکمل ہوگئے ہیں۔1986 میں لگا چھکا شائقین کرکٹ کے دلوں کو آج بھی گرما دیتا ہے۔ جاوید میانداد کے یادگار چھکے پر پاکستان کی معروف فنکارہ بشریٰ انصاری نے گانا بھی گایا تھا۔جاوید

میانداد کو اہم موقع پر سنگل لے کر اسٹرائیک دینے والے کھلاڑی توصیف احمد نے اس گانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بشری انصاری نے سلمیٰ آغا کی کمال نقل کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ یہ گانا بھی میری وجہ شہرت بنا۔یہ میلوڈی انور مقصود، معین اختر اور بشری انصاری نے بنائی تھی۔توصیف احمد نے بتایا کہ اس گانے میں ایک مصرعہ آتا ہے کہ توصیف بیچارے کو درہم آٹھ ملیں گے، اس حوالے سے میں نے ایک دن انور مقصود اور بشری انصاری سے کہا کہ انکم ٹیکس والے میرے پیچھے ہیں میں نے انہیں 8 درہم کا حساب دینا ہے۔ جس پر وہ لوگ خوب ہنسے۔ توصیف احمد نے میچ اور اس سنگل رن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ایک رن نے میری دیگر کارکردگیوں سے زیادہ مجھے شہرت دی۔انہوں نے بتایا کہ جب میں گراونڈ میں اترا تو بہت شور تھا، اس وقت جاوید بھائی امپائر سے بات جیت کر رہے تھے۔ اتنا شور تھا کہ میں اْن کے برابر سے ہوتا ہوا اسٹرائیکر اینڈ کی طرف جارہا تھا مجھے نہیں پتہ جاوید بھائی آواز دے رہے ہیں کیونکہ شور بہت تھا کان میں ایسے آواز آئی جیسے کچھ ہوا میں نے مڑکر دیکھا یار میں آواز دے رہا ہوں تم سن ہی نہیں رہے ہو تو میں نے کہا جاوید بھائی اتنے شور میں آواز نہیں آئی۔انہوں نے بتایا کہ جاوید میانداد نے انہیں کہا کہیں بھی گیند لگے تم بس رنز کے لئے نکل آنا۔

انہوںنے کہاکہ چیتن شرما بولنگ کر رہا تھا کہ مجھے لگا کہ وہ بائونسر یا آف سائیڈ پر گیند کرائے گا مگر اس نے مڈل میں گیند کرا دی۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس منظور الہی کا بیٹ تھا جس پر گیند لگی اور تیزی سے بھارت کے تیز ترین فیلڈر محمد اظہر الدین کے پاس چلے گئی۔انہوں نے کہاکہ میں رنز لینے کے لیے بھاگا تو

ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میرے پیر کیچڑ میں پھنس گئے ہوں، اظہر نے گیند وکٹ کی جانب پھینکی تاہم وہ نہ لگی اور ہم نے ایک رن مکمل کر لیا۔ توصیف احمد نے بتایا کہ میں رن مکمل کرتے ہوئے کافی آگے نکل آیا میں نے مکا بنا کر اشارہ کیا کہ میں پہنچ گیا ہوں۔ میں نے اپنا کام تو پورا کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…