بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

والد کے زندہ بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں،اب آپریشن اس کام کیلئے ہونا چاہیے، علی سدپارہ کے بیٹے مایوس ہو گئے

datetime 7  فروری‬‮  2021 |

سکردو (آن لائن)کے ٹو پر پاکستان کے لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کیلئے جاری سرچ آپریشن دوسرے دن بھی جاری رہا مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہناہے کہ 8ہزار میٹر کی بلندی پر دو دن تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔علی سدپارہ کے کوہ پیما بیٹے سمجھتے

ہیں کہ ان کے والد کی تلاش کیلئے آپریشن جاری رہنا چاہیے۔گزشتہ دنوں پاکستان کے کوہ پیما علی سدپارہ اور 2 غیر ملکی کوہ پیما پر مشتمل اپنی ٹیم کے ساتھ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے اور دو دن سے جاری ریکسیو آپریشن میں بھی ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔علی سدپارہ کے ساتھ سرمائی مہم میں ان کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی شامل تھے لیکن ساجد سدپارہ کو آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونیکے باعث واپس آنا پڑا تھا اور اب دو دن بعد وہ اسکردو پہنچے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل میں ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ دو دن سے ہیلی کاپٹرکے ذریعے میرے والد علی سدپارہ کی تلاش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ’والد کی میت کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن ہو تو ٹھیک ہے، باقی ان کے بچنے کے چانسز 8 ہزار میٹر کی بلندی پر سردی میں 2 تین دن سے غائب ہیں تو زندہ بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں‘۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 7 ہزار میٹر کی بلندی تک لاپتہ کوہ پیماؤں کو تلاش کیا گیا تھا لیکن خراب موسم اور تیز ہواؤں کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔ کے ٹو پر پاکستان کے لاپتا کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کی تلاش کیلئے جاری سرچ آپریشن دوسرے دن بھی جاری رہا مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کا کہناہے کہ 8ہزار میٹر کی بلندی پر دو دن تک زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…