سندھ میں جنہیں ایپل اور بس کی اسپیلنگ نہیں آتی وہ بھی استاد بنے ہوئے ہیں، شاہد آفریدی سندھ حکومت پر برس پڑے

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  0:22

کراچی(این این آئی) شاہد آفریدی نے ایک بار پھر سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو پولیٹن سٹی کہلانے والے تین کروڑ کی آبادی والے شہر کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔شاہد آفریدی فائونڈیشن (ایس اے ایف)کے زیر اہتمام منگھوپیر روڈ کے وانگی گوٹھ میںواقع اسکول میں ایک تقریب کے بعد بات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ وانگی گوٹھ اسکول شاہد آفریدی فانڈیشن کے زیر اہتمام کراچی میں رفاہی بنیادوں پر چلنے والے 8 اسکولوں میں سے ایک ہے، یہ 8 سکول گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی)کے تعاون سے چلائے جارہے ہیں۔شاہد آفریدی


نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میٹرو پولیٹن سٹی کہلانے والے تین کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی کے مسائل روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں، جس تیزی سے شہر کا حجم بڑھ رہا ہے اسی تیزی سے انفراسٹرکچر اور تعلیمی نظام بھی تباہ ہورہا ہے، المیہ یہ ہے کہ کوئی کراچی کو کوئی اپنا نہیں سمجھتا ، کراچی کو اون کرنے والا کوئی نہیں ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ سندھ میں تعلیمی نظام کا یہ حال ہے کہ جنھیں ایپل اور بس کی اسپیلنگ نہیں آتی وہ بھی استاد بنے ہوئے ہیں، سندھ حکومت نے گاریگروں کو بھی استاد بنادیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ سندھ میں نادار گھرانوں کے بچوں میں خواندگی کے فروغ کے لیے فلاحی اداروں کی مشترکہ رفاہی مہم کا بھرپور ساتھ دیا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎