منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ضیا الحق نے عمران خان کو کہا تھا کہ میں تمہیں وزیراعظم بنانا چاہتا ہوں،سرفراز نواز کے اہم انکشافات ، نیا پنڈوراباکس کھل گیا

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ریورس سوئنگ ایجاد کرنے والے سابق مایہ ناز کھلاڑی اور وزیراعظم عمران خان کے سابق قریبی دوست سرفراز نواز نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ عمران خان ایک مفاد پرست انسان ہے، عمران خان نے جو کتاب شائع کی تھی اس میں اس نے مجھے استاد کا درجہ دیا تھا لیکن پھر ہم میں اختلافات پیدا ہو گئے جو کبھی کم نہ ہوئے بلکہ بڑھتے ہی چلے گئے۔

آج کم و بیش 30 سال ہو چکے ہیں نہ میں نے عمران خان سے سلام دعا لی اور نہ ہی اس نے کبھی فون کر کے مجھ سے خیریت دریافت کی، وہ اپنی جگہ پر خوش ہے تو میں اپنی جگہ پر خوش ہوں۔عمران خان سے دوستی ختم ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے سرفراز نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان بہت ہی مفاد پرست انسان ہے جو لوگوں پر پیچھے سے وار کرتا ہے اور ان سے فائدہ لیتا ہے لیکن جب اسے اس سے فائدہ حاصل ہونا بند ہو جائے تو وہ اس سے منہ پھیر لیتا ہے، اس کی سب سے بڑی مثال عبدالقادر کی وفات ہے، عمران خان عبدالقادر کے اتنے قریبی دوست ہونے کے باوجود نہ تو اس کے جنازے پر گئے اور نہ ہی ان کے گھر والوں سے افسوس کیا، اس سے بڑھ کر اس کی مفاد پرستی کی حد کیا ہو سکتی ہے؟سرفراز نواز نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مجھے ایک دفعہ حکومت کرنے کا موقع مل جائے جو اسے مل گیا اور یہ عادت اس کو ضیاءالحق نے ڈالی تھی کیوں کہ عمران خان ضیاءالحق کا بیٹا بنا ہوا تھا اور اس نے عمران خان کو کہا تھا کہ تم پیپلزپارٹی کے خلاف ایک پارٹی بناؤ میں تمہیں ملک کا وزیراعظم بنانا چاہتا ہوں، یہ وہ مقام تھا جہاں سے عمران خان میں ملک کا وزیر اعظم بننے کا لالچ پیدا ہوا۔

اپنے ویڈیو انٹرویو میں مایہ ناز کرکٹر نے مزیدکہا کہ عمران خان اس وقت ملک کے وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انچارج بھی ہیں، اور اس نے کرکٹ بورڈ میں دوسرے جواریوں جیسے کہ احسان مانی، وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد اور ایک دو اور جواری ہیں جن کو اس نے کرکٹ بورڈ میں نوکریاں دی ہوئی ہیں، عمران خان نے ان جواریوں کو تو کرکٹ بورڈ میں رکھنا مناسب سمجھا لیکن عبدالقادر جو کہ اس کا قریبی دوست بھی تھا اس کو نہیں رکھا۔

کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ بیچارا اسی دکھ میں فوت ہوا ہے۔سرفراز نواز نے اپنے انٹرویو میں مزیدبتایا کہ آج دیکھئے عمران خان کے پاس اتنا پیسہ آگیا ہے، کہاں سے آیا اتنا پیسہ اسکے پاس؟ عمران خان نے خوب پیسہ لوٹا جب کہ اس کی بہن بھی پیچھے نہ رہی اس نے بھی خوب پیسہ لوٹا، جب میرے اس کے ساتھ تعلقات تھے تو تب اس کے پاس صرف ایک سوزوکی گاڑی تھی جو بعد میں چوری ہو گئی تھی۔سرفراز نواز نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ چوہدری برادران نے مشرف کے دور میں مجھے کہا تھا کہ ہمارے پاس آؤ اور ہمیں عمران خان سے بچاؤ کیونکہ یہ ہمارے خلاف بہت بول رہا ہے۔

جب ایک اخبار میں عمران خان نے میری چودھری برادران کے ساتھ تصویر دیکھی تو وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور ان کے خلاف بولنا بند کر دیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مجھے اس کی تمام اندر کی باتیں اچھی طرح سے معلوم ہیں۔اپنے انٹرویو کے آخر میں سابق مایہ ناز کھلاڑی نے بتایا کہ جو بھی پاکستان سے انگلینڈ میں آتا ہے تو وہ مجھے بتاتا ہے کہ پاکستان میں جس قدر اب کرپشن ہو رہی ہے تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی، آپ کے یہ بھی علم میں ہوگا کہ جو کام پہلے ایک لاکھ روپے میں ہوتا تھا آج وہ چار لاکھ روپے میں ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ اب کام کروانے کا ریٹ بڑھ چکا ہے، جو پاکستان میں کرپشن بڑھنے کی واضح نشانی ہے۔آپ بھی دیکھئے سرفراز نواز کا مکمل انٹرویو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…