منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

انگلینڈ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے اصل وجہ بتا دی

datetime 25  جولائی  2020 |

لاہور (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا، کرکٹرز کے کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب انگلش کرکٹ بورڈ سے پاکستان ٹیم کے دورے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تو اس وقت بھی یہی

ذہن میں تھا کہ پازیٹو سوچ کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ای سی بی کے ساتھ میٹنگز کیں، کھلاڑیوں کی رائے گئی اور پھر فیصلہ کیا کہ ٹیم کو انگلینڈ بھیجنا ہے۔ وسیم خان نے کہا کہ ٹیم کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا، جب کووڈ 19 ٹیسٹنگ کا عمل شروع ہوا اور کچھ کرکٹرز کے کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آگئے تو ہم ذہنی دبا ؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ا نہوںنے کہاکہ وہ وقت پی سی بی کیلئے ایک مشکل وقت تھا، کھلاڑیوں سے بات کی، وہ اچھی اسپرٹ میں تھے کیونکہ وہ کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے، ان کی خواہش بھی تھی کہ کرکٹ کی سرگرمیاں اب بحال ہونی چاہئیں اس لیے اس سے بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو ئی۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ ہم سے پہلے ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ جانے کا فیصلہ کیا اور اس کی وجہ سے بھی ہمیں آسانی ہوئی، ہمیں چیزوں کا جائزہ لینے کا موقع ملا، ویسٹ انڈیز نے جب انگلینڈ جا کر سیریز کھیلنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت انگلینڈ میں حالات زیادہ خراب تھے، ہمیں پوچھا جاتا ہے کہ ہم نے ٹیم کیوں بھیجی، یہ سوال ویسٹ انڈیز کو بھی ہونا چایئے کہ انہوں نے کیوں حامی بھری۔انہوںنے کہاکہ جہاں تک ہمارے فیصلے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ کرکٹ کی بحالی کے علاوہ کچھ نہیں، اس وقت ورلڈ کرکٹ کیلئے کھیل کی بحالی اہم تھی، کووڈ 19 اور کرکٹ کو ابھی ساتھ ساتھ چلنا ہے، گلوبل کرکٹ کے علاوہ انگلینڈ ٹیم بھیجنے کے فیصلے کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔وسیم خان نے کہا کہ میرے تعلقات کی بات کی جاتی ہے تو میرے ریلشنز تو پہلے ہی انگلینڈ کے ساتھ ہیں،

میں تو یہاں آنے سے پہلے وہاں ہی جاب کر رہا تھا، فیصلہ صرف کرکٹ کے لیے کیا۔انہوںنے کہاکہ کووڈ اور سیکیورٹی کی بنیاد پر کھیل کی بحالی کے حوالے سے فیصلے الگ الگ چیزیں ہیں، میں 2019 میں پی سی بی میں آیا، اس سے پہلے پاکستان میں کھیل کی بحالی کے لیے ٹیمیں کیوں نہیں آئیں، میں اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، میں تو اپنے آنے کے بعد کی بات کر رہا ہوں۔

چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں، سری لنکا، بنگلا دیش اور ایم سی سی کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا، پی ایس ایل کے میچز یہاں ہوئے، مزید ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی اور آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) میں شامل سیریز پاکستان میں ہی ہوں گی۔ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ٹیموں کے پاکستان کے بارے میں خیالات تبدیل ہو رہے ہیں، غیر ملکی ٹیمیں سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…