جمعرات‬‮ ، 23 اپریل‬‮ 2026 

پی سی بی اور فرنچائزز میں دوریاں،پی ایس ایل کی کشتی طوفانوں میں گھرنے لگی، نوبت دھمکیوں تک پہنچ گئی

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن)پی سی بی اور فرنچائزز میں دوریاں بڑھنے سے پی ایس ایل کی کشتی طوفانوں میں گھرنے لگی۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)اور فرنچائزز میں دوریاں بڑھنے سے پی ایس ایل مسائل کا شکار ہے،بورڈ حکام نے کئی بار وعدے کرنے کے باوجود ٹیم اونرز کے تحفظات دور کرنے کی بجائے زیرالتوا رکھنے کا انداز اپنایاجسکی وجہ سے اب لیگ صرف چند ماہ کی دوری پر ہے لیکن لاتعداد مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں۔

تاخیری حربوں اور رابطے کے فقدان کی وجہ سے بورڈ اور فرنچائزز میں دوریاں بڑھ گئیں اور اب ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا قائم ہو چکی ہے اوربورڈ کی جانب سے مفاہمت کی پالیسی کے بجائے سخت رویہ اپنانے سے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑنے لگے اور نوبت دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔فرنچائزز کو6ماہ قبل مکمل فیس کے مساوی رقم کی بینک گارنٹی جمع کرانا پڑتی ہے،اس حوالے سے بورڈ کی جانب سے کئی ماہ قبل ہی خطوط بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا، مگر تاحال کسی ایک فرنچائز نے بھی ایسا نہیں کیا، ان کا جواز ہے کہ اب لیگ کو کئی برس گذر چکے لہذا بداعتمادی کی فضا ختم ہو جانی چاہیے،اگر گارٹنی لینا ضروری ہے تو صرف نئی فرنچائز سے لیں، مگر بعض تلخ تجربات کے باعث بورڈ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے، ماضی میں فیس کی عدم ادائیگی پر چند ٹیموں کی بینک گارنٹی کیش بھی کرائی جا چکی ہے اور ایک فرنچائز کا چیک بانس ہونے پر ایف آئی آر تک کٹوانے کی دھمکی دی گئی تھی، اسی لیے حکام کوئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتے۔بورڈ نے6ماہ سے زائد وقت گذرنے کے باوجود تاحال پی ایس ایل فور کے حسابات کو حتمی شکل نہیں دی،قوانین کے مطابق اب تک ادائیگی ہو جانی چاہیے تھی مگر پی سی بی ایسا نہیں کر سکا، فرنچائز مالکان نے مشترکہ طورپر فیصلہ کیا ہے کہ جب تک انھیں رواں برس منعقدہ ایڈیشن کے حتمی حسابات نہیں دیے جاتے وہ بینک گارنٹی جمع نہیں کرائیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بورڈ کی نئی انتظامیہ پی ایس ایل کے معاملات کو کنٹرول کرنے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔چیئرمین احسان مانی نے یہ کام سی ای او وسیم خان کو سونپا تھا، انھوں نے ڈائریکٹر کمرشل بابرحمید کا تقرر کرتے ہوئے ان کو لیگ کے معاملات ٹھیک کرنیکا ٹاسک دیا مگر وہ بھی ناکام رہے ہیں، مفادات کے عدم ٹکراکی پالیسی بنانے کے بعد اب مصباح الحق کو قومی ٹیم کے ساتھ ایک فرنچائز کیلئے کام کی اجازت پر بھی کئی مالکان ناراض ہیں، ان تنازعات سے لیگ کو ہی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔کرکٹ بورڈ نے بھی معاملات کو بہتر بنانے کے بجائے سخت رویہ اپنا لیا ہے،چیف فنانشل آفیسر بدر منظور خان کی فرنچائز مالکان کو سخت ای میل سے بھی معاملات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر معاملات ہنگامی طور پر حل نہ کیے گئے تو حالات مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…