ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

مصباح الحق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد قومی ٹیم کا کپتان کون ہو گا ؟ امکان ظاہر کر دیا گیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پی سی بی نے قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ پینل کا اعلان کر دیا ہے۔ پی سی بی نے مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ جب کہ وقار یونس کو بالنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔مصباح الحق 3 سال کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ہوں گے۔جب کہ وقار یونس بھی بالنگ کوچ کے عہدے پر 3 سال تک ذمہ دارایاں نبھائیں گے۔۔

پی سی بی کے مطابق مصباح الحق اور وقار یونس کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ پہلی اسائنمنٹ سری لنکا کے خلاف سیریز ہو گی۔اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل مصباح الحق کو قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں دینا ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے۔ان کا کہناہے کہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کرکٹ کے لئے بہت اہم ہیں۔ قومی ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ، آئندہ سال ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی اور آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس 2020،2021 میں شرکت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو اعتماد ہے مصباح الحق کی زیر نگرانی قومی کرکٹ ٹیم آئندہ سالوں میں بہترین کارکردگی دکھائے گی۔اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ کپتان سرفراز احمد کو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیسٹ کی کپتانی مل سکتی ہے۔رواں ماہ سری لنکا کے خلاف محدود اوورز کی سیریز میں سرفراز ہی کپتانی کریں گے۔۔خیال رہے کہ ثقلین مشتاق نے مصباح کو ہیڈ کوچ نہ بنانے کی تجویز دی تھی۔ پاکستان کے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق نے کہا تھا کہ مصباح الحق کو ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوچ بنانے سے قبل مصباح الحق پاکستان کرکٹ بورڈ میں کوئی اور عہدہ دینا چاہیے کیوں کہ ان کے تجربے سے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔پاکستان کی طرف سے 49 ٹیسٹ اور 169 ون ڈے کھیلنے والے 43سالہ ثقلین مشتاق نے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مصباح کا کوئی تجربہ نہیں اور انہیں یہ عہدہ دینا بچکانہ فیصلہ ہوگا۔ اپنے یوٹیوب چینل پر ڈالی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ مصباح نے ایمانداری اور خلوص سے قوم کی خدمت کی لیکن میرا خیال ہے کہ اس عہدے کے لیے وہ ابھی غیر موزوں ہیں۔سابق سپنر نے کہا کہ اگر بیٹسمین

ایک یا دو سال کا تجربہ حاصل کر لیں تو یہ ان کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہو گا۔خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ روز ہیڈ کوچ کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کر لیے گئے تھے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر مصباح الحق، محسن حسن خان اور ڈین جونز نے اس عہدے کے لیے انٹرویوز دیے تھے۔ثقلین مشتاق نے کہا کہ اگر مصباح الحق کو نیشنلکرکٹ اکیڈمی میں کوئی عہدہ دیا جائے تو ان کے تجربے سے نوجوان کھلاڑیوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…