جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

آئی سی سی اجلاس، پاکستان اور بھارتی کر کٹ بورڈز میں لفظی جنگ

datetime 24  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کولکتہ(آئی این پی) آئی سی سی میٹنگز کے موقع پر پاکستان اور بھارتی بورڈز میں لفظی بمباری شروع ہوگئی۔آئی سی سی میٹنگز اتوار سے کولکتہ میں شروع ہوگئی ہیں، ان میں شرکت کیلیے پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی بھی پہنچے ہوئے ہیں، وہاں پر دونوں ممالک میں باہمی سیریز کے حوالے سے کنٹریکٹ کا معاملہ بھی چھایا ہوا ہے۔بی سی سی آئی کے سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے ایک بار پھر اسے معاہدہ ماننے سے ہی انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو صرف اظہار دلچسپی کا خط تھا ۔

میں اسے کنٹریکٹ قرار دینے کے اصرار پر پی سی بی کوقصور وار قرار نہیں دوں گا مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ معاہدہ نہیں ہے، ان پر دراصل اپنے ملک میں دباؤ ہے اور میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہوں۔امیتابھ چوہدری نے یہ دعوی بھی کیا کہ بی سی سی آئی اور پی سی بی میں واضح طور پر یہ بات طے ہوئی تھی کہ اگر آئی سی سی کے نئے مالیاتی ماڈل کا فیصلہ نہیں ہوا تو پھر یہ خط بے اثر ہوجائے گا۔دوسری جانب نجم سیٹھی نے کہاکہ بی سی سی آئی کہتا ہے کہ انھیں حکومت اجازت نہیں دیتی، ہمارا موقف ہے کہ آپ حکومت سے اجازت مانگتے کیوں ہیں،آئی سی سی نے یہ واضح کیا ہوا ہے کہ کرکٹ معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونا چاہیے،اگر یہ معاملہ تھا بھی تو پھر آپ کو کنٹریکٹ میں یہ بات شامل کرنا چاہیے تھی مگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو پھر کیا مسئلہ ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ دونوں ٹیموں کو جنوبی ایشیائی شائقین کی خاطر ایک دوسرے سے کھیلنا چاہیے،گیند اس وقت بی سی سی آئی کے کورٹ میں ہے، ہمیں امید ہے کہ جلد ہی منطقی سوچ غالب آئے گی اور دونوں ٹیمیں پھر سے اچھی کرکٹ کھیلنے لگیں گی، میرا ذہن یہ کہتا ہے کہ جلد یا بدیر ہمیں اس معاملے کا بہتر حل نکالنا ہوگا۔یاد رہے کہ پاکستان نے باہمی سیریز کے حوالے سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے بھارت کیخلاف70 ملین ڈالر ہرجانے کا کیس آئی سی سی کی ڈسپیوٹ کمیٹی میں کیا ہوا ہے، جس پر تین رکنی ٹریبونل بھی قائم ہوچکا اور سماعت اکتوبر میں ہوگی۔ نجم سیٹھی نے کہاکہ ٹریبیونل کے احکامات کی وجہ سے مجھے اس معاملے پر بات کرنے کی آزادی نہیں،اس لیے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…