پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

عمر اکمل نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

دبئی (این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز عمراکمل نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ چھ برسوں سے نہ کھیلنے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے کیرئیر کو بحال کرسکتے ہیں۔ایک انٹرویو میں عمراکمل نے اپنے بیٹنگ اسٹائل کو ٹیسٹ کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں تاحال حیران ہوں کہ میں نے ایسا کیا غلط کیا ہے اور مجھ سے ایسی کونسی غلطی سرذد ہوئی ہے جس کیباعث ٹیسٹ ٹیم سے باہر کیا گیا ہے

۔پاکستان سپرلیگ میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے عمر اکمل کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ سے مجھے باہر کرنے کی وجہ صرف یہ بتائی جارہی ہے کہ میں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں ہوں کیونکہ میں تحمل نہیں کرتا جو ٹیسٹ کرکٹ کی بنیادی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ بتدریج ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا رویہ تبدیل ہوچکا ہے اور اب ٹیمیں ایک دن میں 350 یا ایک روزہ میچ کی طرح اسکور کرتی ہیں اور میچ بمشکل پانچویں دن تک جاتا ہے جبکہ میں اسی طرز کی کرکٹ کھیل رہا تھا جو اس وقت ابھر رہی تھی لیکن مجھے باہر کیا گیا کیونکہ میں روایتی انداز کے بجائے تیز کھیلتا تھا۔اپنے انداز پر سوال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیا وہ میری غلطی تھی، اگر ایسا تھا تو پھر آج پوری دنیا نے جدید کرکٹ کے اس طرز کو ٹیسٹ میں بھی اپنا لیا ہے۔اپنے اوپرہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے عمراکمل نے کہاکہ میں لاپرواہ نہیں ہوں بلکہ میں اپنے فطری انداز میں کھیلتا ہوں اور اگر مجھے فی اوور دس رنز بنانے کو کہا گیا تو پھر آپ مجھ سے کیا توقع کرتے ہیں، کیا میں اپنے لیے کھیلوں اور اپنی ٹیم کا رن ریٹ گرادوں، نہیں بلکہ میں تیز کھیلنے جاؤں گا اور ٹیم کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ کیا میں اپنے لیے کھیلوں اور اپنی ٹیم کا رن ریٹ گرادوں، نہیں بلکہ میں تیز کھیلنے جاؤں گا اور ٹیم کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…