پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

شاہد آفریدی کے صبر کا پیمانہ لبریز،شرجیل اورخالد لطیف کے ساتھ ساتھ عامر،آصف اور سلمان بٹ کو بھی رگڑ ڈالا

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

دبئی (آئی این پی)قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے پاکستان سپر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے کھیل کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے شاہد خان آفریدی نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ جب تک پی سی بی اس طرح کے کھلاڑیوں کو مثال بناتے ہوئے سخت اقدامات نہیں کرے گا، اس وقت اس لعنت سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اینٹی کرپشن کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی پر اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف کو معاملے کی مکمل تحقیقات تک معطل کرکے ایونٹ سے باہر کردیا تھا۔ شاہد آفریدی نے اس اسکینڈل کو 2010 میں لارڈز کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل جیسا ہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب پاکستان رکٹ کو بدنام کرنے کی سازشیں ہیں اور اس سے پاکستان کرکٹ کو ماضی میں پہلے بھی بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اسپات فکسنگ میں ملوث دونوں کھلاڑیوں پر ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی تاحیات پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندی کا کیا فائدہ اگر پانچ سال بعد یہ کھلاڑی دوبارہ کرکٹ میں واپسی کریں۔ جب تک کوئی مثال قائم نہیں کی جائے گی، میرا نہیں خیال یہ سب رک سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں جان بوجھ کر نوبال کرنے پر اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ تینوں کھلاڑیوں پر عائد پابندی کا 2015 میں خاتمہ ہو گیا تھا اور آئی سی سی نے انہیں ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔ محمد عامر کی گزشتہ سال انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوئی تھی جبکہ بقیہ دونوں کرکٹرز تاحال قومی ٹیم میں واپسی کیلئے کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔

قومی ٹیم کے ایک اور سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی پی ایس ایل میں کرپشن اسکینڈل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے محمد عامر کو قومی ٹیم میں واپس لا کر غلط روایت قائم کی، اگر ہم اس وقت اپنے فیصلے پر قائم رہتے تو شاید یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ اپنی گلطیوں سے سبق سیکھے اور اس اسکینڈل میں ملوث تمام کھلاڑیوں کو منطقی انجام تک پہنچائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…