جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اتنا برا وقت آگیا کہ وکٹ کیپنگ میں مسائل کا شکار سرفراز احمد کو قیادت سونپ دی جائے؟کپتانی کیلئے 22سالہ اہم کھلاڑی نام سامنے آگیا،محمدیوسف اورشعیب اختر کا حیرت انگیز موقف

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)پاکستان کر کٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹ میں کپتان بنانے کی دبے لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور انضمام الحق کی ٹیم میں جگہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا، مگر اب کرکٹ پر اتنا برا وقت آگیا کہ سب وکٹ کیپنگ میں مسائل کا شکار سرفراز احمد کو ہی قیادت سونپنے کا مشورہ دینے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کرکٹ کی بہتری کیلئے بڑے اور مشکل فیصلوں کی ضرورت ہے، صرف محمد حفیظ، عمر اکمل اور محمد عامر ہی نہیں ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں نے توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کیا، انضمام الحق تبدیلیاں کرسکتے ہیں لیکن ایسا ہونے پر میڈیا اور عوام کو بھی نتائج کیلئے صبر سے کام لینا ہوگا،کئی پلیئرز اب کارکردگی نہیں دکھارہے تو ان کو ورلڈکپ تک آزمانے کا کیا فائدہ ہوگا،نئے ٹیلنٹ کو گروم ہونے کا موقع دینگے تو مستقبل میں بہتری کی امیدیں وابستہ کرسکیں گے۔انھوں نے کہا کہ شرجیل خان نے آسٹریلوی پچز پر کسی گھبراہٹ کا شکار ہوئے بغیر جارحانہ کرکٹ کھیلی،بابر اعظم 35سال بعد کینگروز کیخلاف ان کے ہوم گراؤنڈ پر سنچری بنانے والے بیٹسمین بنے،پاکستان کو نمبر 4اور 5پر بھی پاور ہٹرز کی ضرورت ہے،آج کل کی کرکٹ میں پچز بیٹنگ کیلئے آسان ہیں،ان پر بھی اسٹرائیک ریٹ 70ہو تو بڑا مجموعہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔سابق سپیڈ سٹار شعیب اختر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ابھرتے ہوئے بیٹسمین بابر اعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنانے کا مشورہ دے دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں شعیب اختر نے کہا کہ یہ آگے بڑھنے کا وقت ہے لہذا مستقبل پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنانا چاہئے۔واضح رہے کہ بابر اعظم صرف 22 سال کے ہیں جنہوں نے تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں آتے ہی کامیابی کی منازل طے کرنا شروع کر دی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…