بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

جاویدمیانداد،شاہدآفریدی تنازعہ،وسیم اکرم بھی میدان میں کود پڑے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوششیں شروع کر دیں ، شاہد آفریدی سے رابطہ کرکے معاملہ رفع دفع کرنے کا مشورہ دیا ۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ایک میرا استاد ہے اور دوسرا میرا شاگرد ہے،چاہتا ہوں کے دونوں کے درمیان معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے ۔وسیم اکرم نے کہا کہ دونوں پاکستان کے کپتان رہے ہیں اور ایک دوسرے کیخلاف بیان دینے سے کرکٹ کا نقصان ہے۔سوئنگ کے سلطان کا کہنا ہے کہ جاوید میاں داد اور شاہد آفریدی معاملے کو مل جل کر حل کریں ۔ معاملے کو بگاڑنے سے اچھا تاثر قائم نہیں ہو رہا۔ اس لیے قابل احترام کرکٹرز کا ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے کا معاملہ جلد حل ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جاوید بھائی اور شاہد میرے لیے اور پاکستان کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں لیکن دونوں کے درمیان کو کچھ ہو رہا ہے، اس پر بہت افسوس ہے ۔ مجھے امید ہے کہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ قبل ازیں ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ جاوید میانداد اور شاہد آفریدی دونوں پاکستان کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں، دو معزز کھلاڑیوں کے درمیان ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس صورت میں فوری طور پر صلح صفائی کی ضرورت ہے۔لیجنڈ کرکٹر کا کہنا تھا کہ معاملے کو مزید نہیں بگاڑنا چاہیے اور مل جل کر معاملہ حل کرنا چاہیے۔ ان دونوں کے درمیان جو بھی ہو رہا ہے حقیقتاً افسوسناک ہے انشا اللہ یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔یاد رہے گزشتہ روز معروف کرکٹرز جاوید میاں داد اور شاہد آفریدی کے درمیان بیانات بیازی کی جنگ نے شدت اختیار کر لی ہے،شاہد آفریدی نے جاوید میاں داد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…