جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی کرکٹ ٹیم کے میچز میں ”میچ فکسنگ“ برطانیہ میں ا ہم ترین گرفتاری،بھارت میں ہلچل مچ گئی،بڑے نام سامنے آگئے

datetime 16  ستمبر‬‮  2016 |

کولکتہ (مانیٹرنگ  ڈیسک) بھارتی میڈیاکے مطابق 2000کے میچ فکسنگ سکینڈل کا ایک مرکزی ملزم سنجیو چاؤلہ لندن میں پکڑا گیاہے ۔اس بات کاانکشاف ایک بھارتی جریدے نے کیاہے ۔اخبارکی رپورٹ160کے مطابق بھارتی حکومت کی درخواست پر کچھ عرصہ قبل لندن میں ملزم سنجیوچاولہ کوگرفتارکیاگیا۔2000کے میچ فکسنگ سکینڈل کے ملزم سنجیو چاؤلہ کے کیس کے سماعت 3 اکتوبر کو لندن میں ہوگی ۔بھارتی اخبارکی رپورٹ کے مطابق برطانوی کرائون پروٹیکشن سروس نے بھارتی پولیس سے پوچھا ہے کہ جہاں پر چاؤلہ کو رکھا جائے گا وہاں کے سیکیورٹی انتظامات کیسے اور کیا سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پروٹیکشن سروس کے ترجمان یاسر محمود کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ نے بھارتی حکومت کے توسط سے چاؤلہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھاجس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی، ان پر بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان 2000 میں کھیلے گئے میچز میں فکسنگ کے الزامات ہیں۔ان کے کیس کی سماعت ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں تین اکتوبر کو ہوگی، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سنجیو چاؤلہ کو بھارت کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ بھارت کی دہلی پولیس کی جانب سے جولائی 2013 میں جو چارج شیٹ پیش کی گئی تھی اس میں چاؤلہ اور جنوبی افریقہ کے فوت ہونے والے ایک سابق کپتان قائد ہنسی کرونیے کو بھی شامل کیا گیا تھاجوایک ہوائی جہازکے حادثے میں160چل بساتھا۔جنوری 2001 میں بھی چاؤلہ کو نارتھ لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے میچ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، تب ان پر 1999 میں اولڈ ٹریفورڈ میںنیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں انگلش پلیئرز کو ناقص کھیل پیش کرنے کے عوض رقم کی پیشکش کرنے کا الزام تھا مگر اسی سال وہ جون میں ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے بچ نکلے تھے۔ دہلی پولیس کی تیارکردہ چارج شیٹ میں راجیش کالرا، کرشن کمار، سنیل دارا اور منموہن خاطراوردیگرسٹہ بازوں کا نام بھی شامل ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…