لاہور (نیوز ڈیسک) چیف سلیکٹر ہارون رشید جو کرکٹ بورڈ میں دو عہدوں پر کام کر رہے ہیں، ان کو بچانے کے لیے ایک لابی سرگرم ہے تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ میں آپریشن کلین اپ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ، انکوائری کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کپتان اور کوچ کو برطرف کیا جانے کا امکان ہے ، کمیٹی نے مستقبل میں ایسا کوچ لگانے کی سفارش کی جو مین مینجمنٹ جانتا ہو۔دوسری طرف چوبیس سال سے کرکٹ بورڈ میں موجود چیف سلیکٹر ہارون رشید کو بچانے کے لیے ایک لابی سرگرم ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ہے ، ایک جانب ہیڈ کوچ وقار یونس کی عہدہ بچانے کے لیے بھاگ دوڑ جاری ہے۔ دوسری جانب چیف سلیکٹر ہارون رشید کو گھر بھیجنا آسان نہیں ، ہارون رشید کرکٹ بورڈ میں ایک نہیں ، دو عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان ہارون رشید کو دوسرا موقع دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ، شہریار خان ہارون رشید کی سلیکشن اور پی ایس ایل میں کمنٹری کرنے سے خوش نہیں ہیں جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ہیڈ نجم سیٹھی چاہتے ہیں کہ چیف سلیکٹر پی سی بی میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا جائے جن کی وجہ سے ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہوا۔
کس کیخلاف کارروائی ہوگی؟وقاریونس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی تفصیلات بھی منظر عام پر آگئیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)
-
بچوں کے ب فارم ۔۔ والدین کے لئے بڑی خبر
-
کیا پٹرول کی قیمت مزید بڑھے گی؟ وزیر خزانہ کا اہم بیان سامنے آ گیا
-
عرب ملک نے تارکین وطن کے لیے دروازے کھول دیئے
-
سکولوں کے حوالے سے نیاحکمنامہ جاری
-
عید الفطر کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی اہم پیش گوئی سامنے آگئی
-
کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ فاروق ستار کا حیران کن دعویٰ
-
بجلی صارفین کے لیے نیا ضابطہ کار جاری، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
گورنر سندھ کا موٹرسائیکل سواروں کو عید تک 3 لیٹر پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان
-
بھارتی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،نوجوان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت دیدی
-
پاکستان میںامریکی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مریم نواز نےاہم ذمہ داری سی سی ڈی کو سونپ دی
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
موٹرویز اور قومی شاہرائوں پر گاڑیوں کی حدِ رفتار میں کمی کر دی گئی



















































