جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان معاملات بگڑگئے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ابو ظبی(آن لائن) قومی ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان معاملات بگڑتے دکھائی دینے لگے، میڈیا میں آکر کپتان اور کوچ کی کھلے عام تنقید پر چیف سلیکٹر ہارون رشید برہم ہیں،دوسری جانب ان کی جانب سے ظفر گوہر کے سوتے رہنے کی منطق بھی کسی کو ہضم نہیں ہو رہی، اس حوالے سے پی سی بی کی بدانتظامی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق انگلینڈ سے سیریز کیلیے پاکستانی 16 رکنی اسکواڈ میں صرف 2 اسپیشلسٹ اسپنرز یاسر شاہ اور ذوالفقار بابرکوشامل کیا گیا،بدقسمتی سے پہلا ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل ہی یاسر شاہ انجرڈ ہوکرٹیم سے باہر ہو گئے، یوں پاکستانی پلان فلاپ اور کپتان مصباح الحق بھی فرسٹریشن کا شکارہوگئے، انھوں نے ٹاس کے وقت ہی انٹرویو میں اسکواڈ میں اسپنرز کی کمی کو بدانتظامی کی مثال اور مایوس کن قرار دیا تھا، ایک ٹی وی انٹرویو میں کوچ وقار یونس نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا، اس سے صاف ظاہر ہو چکا کہ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ ایک پیج پر نہیں ہیں،دوسری جانب ظفر گوہرکے بروقت یو اے ای نہ پہنچنے پر بھی الگ کہانیاں سامنے آئی ہیں۔منیجر انتخاب عالم نے ابوظبی میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ویزے میں تاخیر کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچ سکے، ادھر پاکستان میں چیف سلیکٹر ہارون رشید نے نیا پنڈورا باکس کھولتے ہوئے ٹی وی پروگرام میں کہہ دیا کہ ” ظفر سوتے رہ گئے اس لیے فلائٹ مس ہو گئی“ ان کی اس بات کو کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ٹیسٹ ڈیبیو کا منتظرکوئی کھلاڑی اتنی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں پی سی بی کی بدانتظامی کھل کرسامنے آ گئی ہے، بعض حلقوں کا یہ بھی کہا ہے کہ ظفر کے سوتے رہ جانے کی کہانی خود پر سے ملبہ ہٹانے کیلیے ہی تیار کی گئی، نوجوان کھلاڑی مستقبل کے پیش نظرجوکہا جائے اسے ماننے کو تیار ہی ہو گا، بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت اسکواڈ تشکیل دیا گیا مصباح اور وقار سے بھی مشاورت کی گئی تھی تب انھوں نے کیوں اعتراض نہ کیا؟ ذرائع کے مطابق اب بھی تیسرے اسپنر کو پاکستان سے بھیجنا خارج از امکان نہیں ہے۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…