منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

قومی کھلاڑی اسپاٹ فکسرز کی واپسی کے مخالف

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

لا ہور (نیوز ڈیسک)اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے مرکزی کردار محمد عامر، محمد آصف اور سابق کپتان سلمان بٹ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے تو کلیئر کر کے 2 ستمبر سے کیریئر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے چار سے پانچ کھلاڑی ان تینوں کو دوبارہ ٹیم میں کھیلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں عامر اور آصف پر پابندی لگنے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے تنویر نے کہا کہ ان تینوں کھلاڑیوں کو کسی بھی صورت دوبارہ کیریئر شروع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔’جس کسی نے بھی پاکستان کی اس طرح بدنامی کی، سیدھی سی بات ہے کہ اسے واپسی کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
انہوں نے پاک پیشن کو انٹرویو میں کہا کہ اگر ہم ان کھلاڑیوں کے معاملے میں سختی نہیں برتیں گے تو کوئی اور بھی یہ سوچ کر یہ کام کرے گا کہ وہ جلد اس جرم سے بری ہو جائے گا۔تنویر احمد نے کہا کہ جنہوں نے اپنے ملک کا خیال نہ کرتے ہوئے اسپاٹ فکسنگ کی انہیں کرکٹ گراو¿نڈ کے قریب بھی آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔2013 میں آخری مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 36 سالہ میڈیم فاسٹ باو¿لر نے انکشاف کیا کہ اگر آصف، عامر اور سلمان بٹ کو قومی ٹیم میں شامل کرنے پر غور کیا جاتا ہے تو موجودہ قومی ٹیم کے کھلاڑی ان تینوں کے ساتھ کھیلنے پر تیار نہیں۔’قومی ٹیم کے چار سے پانچ کھلاڑی واضح طور پر ان تینوں کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اگر قومی ٹیم میں ایسا ہے تو کوئی کیسے سوچ سکتا ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر کھلاڑی ان کا کھلے دل سے استقبال کریں گے‘۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈومیسٹک کرکٹ ہی پاکستانی ٹیم کی بنیاد ہے لہٰذا اگر ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں واپس لینے کا فیصلہ کرتے وقت اس سلسلے میں ڈومیسٹک سطح پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کی رائے ضرور لینی چاہیے۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے ان تینوں کھلاڑیوں کی عالمی کرکٹ میں فوری واپسی کے امکان کو رد کرتے ہوئے چھ ماہ کے بحالی کے پروگرام سے گزرنے کی ہدایت کی ہے۔قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر ہارون رشید نے کہا تھا کہ جب تک پی سی بی کی جانب سے واضح ہدایات جاری نہیں ہوتیں، اس وقت تک سلیکشن کمیٹی ان تینوں کھلاڑیوں کی مستقبل میں کسی بھی سطح پر کرکٹ میں واپسی کا وقت نہیں بتا سکتی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…