منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

شعیب اختر نے محمد عامر ،آصف اورسلمان بٹ کوقومی ٹیم میںواپسی کا راستہ بتادیا

datetime 30  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سابق پاکستانی فاسٹ باو¿لر شعیب اختر نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزایافتہ محمد عامر کوکرکٹ میں واپسی کے لیے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیاہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے اعصاب کو مضبوط رکھیں ، انہیں بڑے امتحان کا سامنا کرنا ہوگا، یہ کھلاڑی بہترین کارکردگی دکھا کر معذرت کاعملی اظہار کریں ہم انہیں معاف کردیں گے۔خلیجی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں شعیب اخترنے کہا کہ محمد عامر پر پابندی نہ لگتی تو وہ اب تک اڑھائی سو سے تین سو وکٹیں لے چکا ہوتا اور اسے کرکٹ میں واپسی کے ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا تھا کہ محمد عامر نے پابندی سے سب کچھ نہیں کھویا ،میں عامر کو آگے بڑھتے، باشعور اور سنجیدہ مدد لیتے دیکھنا چاہتا ہوں، اسے ماہر نفسیات اور سنجیدہ مشیروں کی خدمات حاصل کرنی چاہئے اور اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک کرکٹ میدانوں سے دور رہنے کے باوجود عامر کے پاس ابھی مزید چھ سے سات سال کھیلنے کے لیے موجود ہیں۔شعیب اختر نے پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے 178 ٹیسٹ اور 247 ون ڈے وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کھلاڑی ہمیشہ ملک میں زیربحث رہیں گے، وہ پاکستان میں ہر وقت زیربحث رہیں گے اور انہیں یہ بوجھ اپنی ریٹائرمنٹ تک اٹھانا ہوگا۔شعیب اختر نے کہاکہ انہوں نے کچھ غلط بہت زیادہ غلط کیا مگر اب انہیں اس کے اثر سے باہر نکل کر اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیلنا چاہئے اور پاکستان کی عظمت واپس لانی چاہئے، اسی طرح سے لوگ انہیں معاف کرپائیں گے۔خیال رہے کہ آئی سی سی نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر عائد پابندی یکم ستمبر سے اٹھانے کا اعلان کیا ہے اور یہ تینوں 2016 میں بین الاقوامی میدانوں میں واپسی کے اہل ہوگے جس کے لیے انہیں پی سی بی کے بحالی نو پروگرام سے گزرنا ہوگا۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ان تینوں کو آئندہ برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے پاکستان اسکواڈ میں جگہ بنانے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہئے، یہ میرے لیے بہترین معذرت ہوگی کہ اگر وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیت لیتے ہیں، اگر وہ معذرت کرنا چاہتے ہیں تو اسے الفاظ کی بجائے ہندوستان سے ورلڈکپ لانے کی شکل میں یا اپنی صلاحیت کے مطابق بہترین کارکردگی دکھا کر اس کا اظہار کریں، پھر ہم انہیں معاف کردیں گے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…