منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

کراچی کرکٹ ہارگئی، پی سی بی جیت گیا،راشد لطیف

datetime 20  اگست‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ نئے ڈومیسٹک کرکٹ فارمیٹ کے معاملے پرکراچی کرکٹ ہارگئی اور پی سی بی جیت گیا، یہ تنازع حل نہیں ہو سکتا،ملک بھرکی تمام ٹیموں کوکوالیفائنگ راﺅنڈ کھلایا جائے، جب تک موجود بورڈ میں نان کرکٹرز فیصلے کریں گے اسی طرح کی صورتحال پیش آتی رہے گی۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے راشد لطیف نے کہاکہ کے سی سی اے شہرقائدکی کرکٹ کا مقدمہ درست انداز میں نہیں لڑسکی، اسے اندرونی طور پر بھی مزاحمت درپیش ہے، پی سی بی کے نئے ڈومیسٹک فارمیٹ پر دستخط کرنے کے بعد اب ایسوسی ایشن کواسے تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے؟ میڈیا میں بات آنے پر آواز اٹھائی گئی، کے سی سی اے اس معاملے پر سراپا احتجاج ہوتی تو مجھے کھڑے ہوکر بات کرنے کی نوبت پیش نہ آتی، میں ملک بھر میں کرکٹ کی بہتری کے لیے آواز بلند کرتا رہوں گا، اب پی سی بی کے نئے سسٹم کو بھی ایک سال تک دیکھنا چاہیے۔ اس دوران تمام خوبیاں اور خامیاں سامنے آجائیں گی، انھوں نے کہا کہ اگر کوالیفائنگ راﺅنڈ کھیلنا ضروری ہے تو پھر تمام ٹیموں کوکھلانا چاہیے تاکہ اچھی ٹیمیں ہی آگے جا سکیں، کوالٹی کرکٹ رکھنی ہے توکوئی اورفارمیٹ لایا جائے، ہم نے اتنی کرکٹ کھیلی اور بہت سسٹم دیکھے لیکن جیسا اب ہورہا ہے ایسا نہیں دیکھا ، راشد لطیف نے کہا کہ ماضی میں ہمیشہ سے کراچی اورلاہورکی 2،2 ٹیمیں رہی ہیں، بہترہوگاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اسپانسرشپ لاکر فرسٹ کلاس کرکٹرزکوپیسے دیے جائیں، ان کے لیے بہت کم آواز اٹھتی ہے، انٹرنیشنل کرکٹ میں بہترکارکردگی کے لیے ڈومیسٹک مقابلوںکو ترجیح دینے کی ضرورت ہے، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ڈومیسٹک کرکٹ ہم سے بہتر ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ پی سی بی میں محض ایک شخص زیادہ بااختیار ہے،پی سی بی کے گورننگ بورڈ میں موجود لوگوں نے کرکٹ نہیں کھیلی، وہ کھیل کی سمجھ سے عاری ہونے کے سبب غلطیاں کرتے ہیں،کرکٹ کے خلاف فیصلے کیے جارہے ہیں ، ایسے افراد کی موجودگی میں کھیل مزید تباہی کی جانب جائے گا، انھوں نے کہا کہ کے سی سی اے کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا پڑے گی اور اس کی سزا کراچی کے کرکٹرز کو ملے گی، اس معاملے پرلاہور کے اسٹینڈ لینے سے بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…