منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

یونس خان نے قومی ٹیم کی قیادت چھوڑنے کی غلطی کا اعتراف کرلیا

datetime 6  اگست‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے 2009 میں قومی ٹیم کی قیادت سے مستعفی ہونے کی غلطی کا اعتراف کرلیا۔
بھارتی میڈیا کو انٹرویو کے دوران یونس خان کاکہنا تھا کہ ہر شخص اپنی زندگی میں غلطی کرتا ہے اور میں نے بھی کئی غلطیاں کی ہیں لیکن ان میں سب سے بڑی غلطی 2009 میں قومی ٹیم کی قیادت چھوڑنے کی غلطی ہے لیکن ملک کی نمائندگی کرنے پر مجھے فخر ہے اور اگر قومی ٹیم کی قیادت کا ایک اور موقع دیا گیا تو اسے ضرور قبول کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ کھلاڑی تعاون نہیں کر رہے تھے اس لئے قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت سے استعفیٰ دیا تاہم اس وقت کے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ نے بہت سپورٹ کیا اور وہ کھلاڑیوں کے خلاف ایکشن لینے کے لئے بھی تیار تھے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کے فوری بعد شارٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کے سوال پر یونس خان کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی خالصتاً نوجوان کھلاڑیوں کا فارمیٹ ہے اور اب تک اس چیز پر قائم ہوں اور دیگر ٹیموں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی میں کنارہ کشی کی ایک وجہ آئی پی ایل میں ہونے والا ناروا سلوک بھی تھا، آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کی جانب سے صرف ایک میچ کھلائے جانے پر خوش نہیں تھا، مجھے علم نہیں کہ ہمارے کپتان شین وارن کا مجھے نہ کھلانے کی کیا وجہ تھی، پہلے آئی پی ایل ایڈیشن میں ماحول کو دیکھتے ہوئے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ میں اس ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکتا۔
یونس خان نے واضح کیا کہ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے تاہم اگر پی سی بی نے انہیں آئندہ سال ہونے والی پاکستان سپرلیگ کے لئے دعوت دی تو وہ اس کے لئے دستیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی میں کسی کو حقیر نہیں سمجھا اور ہمیشہ خود پر پہلے پاکستان کو ترجیح دی، کوئی کپتان یا کوچ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یونس خان نے انہیں سپورٹ نہیں کیا تاہم میرا یقین ہے کہ ہر کھلاڑی چاہے اس نے 100 ٹیسٹ کھیلے ہوں یا صرف ایک ٹیسٹ ، اسے برابر کی عزت دینی چاہیئے



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…