اسلام آباد(نیوزڈیسک) رواں سال پاکستان میں موجود دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے والے واحد غیر ملکی کوہ پیما مائک ہورن کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام ’بے ادب‘ ہیں۔ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے سوئس کوہ پیما مائک ہورن کا کہنا تھا کہ وہ 14 مئی کو اسپانسر کی فراہم کی گئی دو جیپس پر وہ سوئیزر لینڈ میں اپنے گھر سے نکلے تھے۔انھوں نے کے ٹو کو سر کرنے کی مہم شروع کرنے سے پہلے 11 ممالک میں 11 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا اور پاکستان میں داخل ہوئے۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ ان کو اور ان کی ٹیم کو اس وقت حیرانگی ہوئی جب پاکستانی چیک پوسٹ پر ان کو روک لیا گیا جبکہ ان کے پاس سوئیزرلینڈ میں قائم پاکستانی سفارت خانے سے جاری ہونے والا ویزا اور کے ٹو کو سر کرنے کا پرمنٹ موجود تھا۔سوئس کوہ پیما اور ان کی ٹیم کے اور فرد کو دو ہفتوں تک سکردو میں انتظار کرنا پڑا۔مائک ہورن نے بتایا کہ ان کے دوست پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی مداخلت اور مدد سے ان کو اٹھارویں روز اپنی مہم کو جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کو کیوں روکا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں وہ یقین سے نہیں کہ سکتے، شاید ان کے ملٹری ریکارڈ یا ہندوستان میں کوکلتہ نائٹ راڈرز کی کرکٹ ٹیم کا کوچ ہونے پر ان کے ساتھ ایسا کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ویزا اور پرمنٹ خریدے جانے کے باوجود ان کے ساتھ ایسا سلوک ان کو ’بے ادبی‘ لگا ہے۔خیال رہے کہ مائک ہورن پاکستان میں 2007ء سے کوہ پیمائی کررہے ہیں انھوں ںے براڈ پیک، گاشر برگ وان اور ٹو سر کی ہے جبکہ 2013ء میں خراب موسم کے باعث وہ کے ٹو کو سر کرنے میں ناکام رہے اور انھیں واپس جانا پڑا۔ انھوں نے گذشتہ سال نیپال میں موجود دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ماکالو سر کی تاہم ان کی دلچسپی سب سے زیادہ قراقرم رینج میں ہی رہی۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ اس سال کے ٹو بہت زیادہ دشوار گذار ہوگیا تھا اور رواں سال سب سے زیادہ تودے گرے ہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے کبھی نہیں سننا گیا تھا، یہاں تک کہ کے ٹو پر ’ایک روز میں چار چار بار تودے گرے‘۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں جب ان کی ٹیم 7500 میٹر کی بلندی پر پہنچی (جسے انھوں نے دیتھ زون قرار دیا) تو ان کے ایک ساتھی کو فٹ بال کے برابر پتھر آکر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ٹیم پر کوئی پتھر پھیک رہا ہے۔’ڈیتھ زون‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زیادہ اونچائی کی وجہ سے یہاں اوکسیجن کی انتہائی کمی ہوجاتی ہے اور فضا میں آکسیجن کی مقدار صرف 7 فیصد رہ جاتی ہے جس سے انسانی جسم خود کو مرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس موقع پر اوکسیجن سلینڈر کا استعمال انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’الفاظ میں نہیں بتا سکتے کہ یہ میم کس قدر خطرناک تھی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
200 یونٹس تک بجلی کے بلوں پر سبسڈی ختم ہونے کی خبریں،وزارت توانائی کا بڑا اعلان
-
تھینک گاڈ
-
ایک سے زائد سنگل فیز میٹرلگا کر بجلی بلوں میں سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی شامت آگئی
-
ایک گانے کی وجہ سے ملک بھر میں گرفتاریاں، 36 سال پرانا گانا منچلوں کو مہنگا پڑ گیا
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا
-
منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں
-
عید پر حکومت کا اہم اعلان! سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
19 سے 22 مئی کے دوران ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیش گوئی
-
’’بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں‘‘، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا
-
عید الاضحیٰ پر رواں سال 5 سے 6 سرکاری چھٹیوں کا امکان
-
الرجی، خون کی کمی اور انفیکشن کے مریضوں کیلئے اہم الرٹ جاری
-
بیرون ملک جانے کے لیے کون سی دستاویز درکار ہیں، نئی شرائط جاری
-
غیر ملکی جوڑے نے قصور کےخاندان کو 130 سالہ غلامی سے نجات دلا دی
-
’’عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو واشنگٹن سب کچھ معاف کر دے گا‘‘ پاکستانی سفیر کا مبین...



















































