منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی حکام بے ادب ہیں، سوئس کوہ پیما

datetime 6  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) رواں سال پاکستان میں موجود دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے والے واحد غیر ملکی کوہ پیما مائک ہورن کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام ’بے ادب‘ ہیں۔ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے سوئس کوہ پیما مائک ہورن کا کہنا تھا کہ وہ 14 مئی کو اسپانسر کی فراہم کی گئی دو جیپس پر وہ سوئیزر لینڈ میں اپنے گھر سے نکلے تھے۔انھوں نے کے ٹو کو سر کرنے کی مہم شروع کرنے سے پہلے 11 ممالک میں 11 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا اور پاکستان میں داخل ہوئے۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ ان کو اور ان کی ٹیم کو اس وقت حیرانگی ہوئی جب پاکستانی چیک پوسٹ پر ان کو روک لیا گیا جبکہ ان کے پاس سوئیزرلینڈ میں قائم پاکستانی سفارت خانے سے جاری ہونے والا ویزا اور کے ٹو کو سر کرنے کا پرمنٹ موجود تھا۔سوئس کوہ پیما اور ان کی ٹیم کے اور فرد کو دو ہفتوں تک سکردو میں انتظار کرنا پڑا۔مائک ہورن نے بتایا کہ ان کے دوست پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی مداخلت اور مدد سے ان کو اٹھارویں روز اپنی مہم کو جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کو کیوں روکا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں وہ یقین سے نہیں کہ سکتے، شاید ان کے ملٹری ریکارڈ یا ہندوستان میں کوکلتہ نائٹ راڈرز کی کرکٹ ٹیم کا کوچ ہونے پر ان کے ساتھ ایسا کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ویزا اور پرمنٹ خریدے جانے کے باوجود ان کے ساتھ ایسا سلوک ان کو ’بے ادبی‘ لگا ہے۔خیال رہے کہ مائک ہورن پاکستان میں 2007ء سے کوہ پیمائی کررہے ہیں انھوں ںے براڈ پیک، گاشر برگ وان اور ٹو سر کی ہے جبکہ 2013ء میں خراب موسم کے باعث وہ کے ٹو کو سر کرنے میں ناکام رہے اور انھیں واپس جانا پڑا۔ انھوں نے گذشتہ سال نیپال میں موجود دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ماکالو سر کی تاہم ان کی دلچسپی سب سے زیادہ قراقرم رینج میں ہی رہی۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ اس سال کے ٹو بہت زیادہ دشوار گذار ہوگیا تھا اور رواں سال سب سے زیادہ تودے گرے ہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے کبھی نہیں سننا گیا تھا، یہاں تک کہ کے ٹو پر ’ایک روز میں چار چار بار تودے گرے‘۔مائک ہورن کا کہنا تھا کہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں جب ان کی ٹیم 7500 میٹر کی بلندی پر پہنچی (جسے انھوں نے دیتھ زون قرار دیا) تو ان کے ایک ساتھی کو فٹ بال کے برابر پتھر آکر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی ٹیم پر کوئی پتھر پھیک رہا ہے۔’ڈیتھ زون‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زیادہ اونچائی کی وجہ سے یہاں اوکسیجن کی انتہائی کمی ہوجاتی ہے اور فضا میں آکسیجن کی مقدار صرف 7 فیصد رہ جاتی ہے جس سے انسانی جسم خود کو مرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس موقع پر اوکسیجن سلینڈر کا استعمال انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’الفاظ میں نہیں بتا سکتے کہ یہ میم کس قدر خطرناک تھی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…