جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

بنگلہ دیش نے ہندوستان کےخلاف سیریز جیت لی

datetime 25  جون‬‮  2015 |

ڈھاکہ(نیوزڈیسک) ہندوستان نے تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں بنگلہ دیش کو باآسانی 77 رنز سے شکست دے دی لیکن بنگلہ دیش نے سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے ہندوستان کو بلے بازی کو بیٹنگ کی دعوت دی اور یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا۔ہندوستان نے شیکھر دھاون اور کپتان مہندرا سنگھ دھونی کی شاندار بلے باز کی بدولت 317 رنز کا بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔شیکھر دھاون نے 75، دھونی نے 69 رنز بنائے جبکہ سریش رائنا نے 38، امبتی رائیڈو نے 44، روہت شرما 29 اور ویرات کوہلی نے 25 رنز بنا کر ان کا ساتھ نبھایا۔بنگلہ دیش کی جانب سے کپتان مشرفی مرتضیٰ نے تین جبکہ مستفیض الرحمان نے دو وکٹیں حاصل کیں۔318 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم شروع سے ہی مشکلات سے دوچار ہو گئی اور وقفے وقفے وکٹیں رہی اور کوئی بھی بلے باز ہندوستانی باو¿لرز کا سامنا نہ کر سکا۔سومیا سرکار 40، صابر رحمان 43، لٹن داس 34، ناصر حسین 32، مشفیق الرحیم 24 جبکہ شکیب الحسن 20 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 47ویں اوور میں 240 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ہندوستان کی جانب سے سریش رائنا تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باو¿لر رہے جبکہ روی چندرہ ایشون اور دھاول کلکرنی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔سریش رائنا کو آل راو¿نڈر کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ تین میچوں میں 13 وکٹیں لینے پر مستفیض الرحمان سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔تاہم اس شکست کے باوجود ہندوستانی ٹیم کو سیریز میں 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں بنگلہ دیش نے پہلے دونوں میچ جیت کر سیریز پہلے ہی اپنے نام کر لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…