جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیفا ورلڈ کپ میزبانی کی آسٹریلوی کوشش کی تفتیش شروع

datetime 5  جون‬‮  2015 |

سڈنی (نیوز ڈیسک)آسٹریلوی پولیس 2022ء میں فیفا ورلڈ کپ کیلئے آسٹریلیا کی جانب سے کی گئی میزبانی کی ناکام پیشکش کے بارے میں کی جانے والی مالی ادائیگیوں کی تفتیش کر رہی ہے۔آسٹریلوی پیشکش کا ایک جز ایسا تھا جس میں ایک اسٹیڈیم کی تعمیر نو کیلئے معاوضہ شامل تھا جو مبینہ طور پر فیفا کے اہلکار جیک وارنر نے ہتھیا لیا۔ آسٹریلوی فٹبال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی پیشکش میں کوئی غیر قانونی عنصر شامل نہیں تھا۔ آسٹریلیا میزبانی کے حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس سلسلے میں قطر کامیاب رہا تھا۔
جیک وارنر ان 14 افراد میں شامل ہیں جنہیں ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق دینے کے طریقہ کار میں مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں امریکی تفتیش کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ ان 14 افراد نے گزشتہ 24 سال میں مبینہ طور پر کروڑوں ڈالر رشوت وصول کی تھی۔اس مجرمانہ امریکی تفتیش کے بعد فیفا کے صدر سیپ بلاٹر اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ آسٹریلوی پولیس اس بات کی تفتیش کرے گی کہ کیا جیک وارنر کو پانچ لاکھ آسٹریلوی ڈالر کی 2010ءمیں کی گئی ادائیگی میں کوئی بین الاقوامی یا آسٹریلوی قانون تو نہیں توڑا گیا۔آسٹریلوی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ فی الحال ان کا ادارہ فٹبال کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی پیشکش میں ہونے والی مالی ادائیگیوں کی تفتیش کر رہا ہے تاہم اس وقت سرکاری طور پر مزید کچھ نہیں کہا جائے گا۔فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا کے چیئرمین فرینک لووی نے ملک میں فٹبال کے شائقین کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے فیفا میں بدعنوانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا، تاہم اپنے ادارے کی جانب سے غلطیوں کا اعتراف بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک شفاف پیشکش کی تھی تاہم سب کو ایک جیسے مواقع نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے ہماری کوشش ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ میں اس نتیجے کے بارے میں شدید مایوس رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…