بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

بال ٹمپرنگ کا الزام کیوں لگا،امپائر کی دھلائی کیوں کی؟مصباح الحق نے سب کچھ سچ سچ بتادیا

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی پر خوشی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاہے کہ میچ کے دور ان شائقین کا جذبہ دیدنی تھا , ہر گیند اور رن پر داد دے رہے تھے .پاکستان میں آئی پی ایل کی طرز پر ایک کرکٹ لیگ شروع کرنے کی ضرورت ہے .عالمی کرکٹ کھیلنا میری پہلی ترجیح نہیں تھی . اپنے کزن کے ساتھ بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا، لیہ .بھکر اور میانوالی میں ٹیپ بال کرکٹ بہت کھیلی ہے .نئے دور کے کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ مالی فوائد کی جانب منتقل ہو چکی ہے جس سے کھیل کا جذبہ دم توڑ رہا ہے .ٹیم میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے تمام تر اختیارات سلیکشن کمیٹی کے پاس تھے اور کپتان صرف مشورہ دیتا تھا ¾ہمیں اچھے نتائج چاہئیں تو ہمیں کپتان کے ساتھ ساتھ کوچ کو بھی بااختیار بنانا ہو گا۔ ایک انٹرویو میں مصباح الحق نے کہاکہ میں نے اس طرز کی سپورٹ پہلے کبھی نہیں دیکھی جہاں شائقین لطف اندوز ہو رہے تھے اور ٹیم کی جانب سے لیے گئے ہر رن پر داد دے رہے تھے۔مصباح نے کہا کہ گزشتہ چھ سال کے دوران پاکستان اپنی سرزمین پر عالمی کرکٹ نہیں کھیل سکا اور ٹیم نے اپنی سرزمین پر کھیلنے کے اہم فائدے سے محروم کو محسوس کیا۔ہوم ایڈوانٹیج بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ آپ پچ اور دیگر کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوتے ہیں اس کی مثال ہم نے رواں سال ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی صورت میں دیکھی جب انہوں نے نیوزی لینڈ سے باہر واحد میچ کھیلا تو وہ ورلڈ کپ ہار گئے تاہم مصباح نے کہا کہ دبئی اور ابو ظہبی بھی کھلاڑیوں کو اپنے گھر جیسا ہی محسوس ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں کھیلتے ہوئے ہمیں کسی حد تک ہوم ایڈوانٹیج حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہم نے وہاں کئی میچز کھیلے ہیں اور اب تک وہاں ٹیسٹ سیریز نہیں ہارے۔انہوںنے کہا کہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں جب مصباح ٹیپ بال سے کھیلتے تھے تو وہ فاسٹ باو ¿لنگ کے ماہر تصور کیے جاتے تھے جہاں ان کی خوبی یارکر گیند تھی۔مصباح نے ماضی میں جھروکوں میں جھانکتے ہوئے اپنے نوجوانی کے اس دور کو یاد کیا جب ان پر بال ٹمپرنگ کا غلط الزام عائد کیا گیا۔’ایک میچ کے دوران میں دو ڈاٹ گیندیں کرانے میں کامیاب رہا تاہم جیسے ہی میں نے تیسری گیند پھینکی، اپمائر نے اسے نوبال قرار دے دیا۔چوتھی گیند کو پھر نوبال قرار دیا گیا، جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ تم نے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی پانچویں گیند پر میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کریز سے پہلے ہی گیند کرا دوں لیکن اس بار امپائر نے اسے



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…