ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

بھارت میں ایک اورنئی ”باغی“ کرکٹ لیگ کے سر اٹھانے کا خدشہ

datetime 26  اپریل‬‮  2015 |

دبئی(نیوزڈیسک )بھارت میں آئی سی ایل کے بعد ایک اور ”باغی“ کرکٹ لیگ کے سر اٹھانے کا خدشہ بڑھ گیا۔تفصیلات کے مطابق ایک معروف غیرملکی نشریاتی ادارہ اوراس کی کمپنی2007 میں باغی آئی سی ایل کرانے کی ذمہ دار تھی، ناکام ایونٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کو پورے معاوضے ادا نہیں کیے گئے۔انھیں آئی سی سی کی جانب سے پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا، کئی معاملات عدالتوں میں زیر سماعت رہے، پاکستان میں اس لیگ کیلیے کھلاڑیوں کی بھرتی سابق کپتان معین خان نے کی تھی، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے کھلاڑی بھی اس میں شریک ہوئے۔اب اسی کمپنی کی طرف ایک اور پراسرار سرگرمی نے مختلف ممالک کے کرکٹ بورڈز کو چونکا دیا،انگلش کرکٹ بورڈ سے ملتے جلتے ناموں ”کرکٹ ایسوسی ایشن آف انگلینڈ“ اور ”کرکٹ کنٹرول آف اسکاٹ لینڈ“ جیسی ویب سائٹس رجسٹر کی گئی ہیں، اسی طرح کرکٹ آسٹریلیا کے متوازی ”آسٹریلیا کرکٹ کنٹرول لمیٹڈ“ اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے برابر ”نیوزی لینڈ کرکٹ لمیٹڈ“ ،”کیوی کرکٹ لمیٹڈ“ اور ”اوٹیروا کرکٹ لمیٹڈ“ کی رجسٹریشن ہوئی۔کرکٹ ایسوسی ایشن آف انگلینڈ کا ڈومین ایڈریس .co.inپر ختم ہوتا ہے جس سے ظاہر ہواکہ کمپنیز کو رجسٹر کرنے کی شرارت بھارت میں ہی ہوئی۔ ای سی بی کے چیئرمین جائلز کلارک نے یہ معاملہ آئی سی سی کے اجلاس میں اٹھایا تھا، انھوں نے کہاکہ پراسرار سرگرمی کے بارے میں کوئی بھی وضاحت نہ ہونے سے عالمی کرکٹ برادری کو تشویش ہے،اس کمپنی کیساتھ روابط اور نشریاتی معاہدے رکھنے والے بورڈز میں موجود اعلیٰ عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ معاملے کی حقیقت واضح کرنے میں مدد کریں۔نیوزی لینڈ بورڈ کے رکن کریگ بارکلے نے کہا کہ ہمیں دسمبر میں ملتے جلتے ناموں پر کرکٹ باڈیز رجسٹر کیے جانے کا علم ہوا تھا تاہم اس کا مقصد سمجھ میں نہیں آسکا، ہم نے آئی سی سی کو بتا دیا جو معاملے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے،اس سرگرمی کے حوالے سے جاننے کیلیے مذکورہ چینل سے براہ راست رابطہ کیا جائے گا۔کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان نے کہاکہ اس سرگرمی سے آئی سی سی کو آگاہ کردیا تھا تاہم مزید حقائق سامنے آنا باقی ہیں۔یاد رہے کہ ٹی وی چینل کئی بڑے ٹیسٹ ممالک کی ہوم سیریز کا میزبان براڈ کاسٹر مگر بھارتی مارکیٹ میں اپنی جگہ نہ بنا پانے کی کمی شدت سے محسوس کرتا ہے،انٹرنیشنل کرکٹ اور چیمپئنز لیگ کے نشریاتی حقوق ایک چینل اور آئی پی ایل کے دوسرے کے پاس ہیں۔ ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کی کرکٹ باڈیز کی رجسٹریشن کا ایک مقصدانڈین لیگ کی طرز پر ایک اور ایونٹ کرانے کی کوشش ہوسکتی ہے لیکن بھارت میں اس کا زیادہ امکان نہیں، ہوسکتا ہے کہ ادارے کی نظریں امریکی مارکیٹ پر ہوں جہاں اس کی بڑی گنجائش نظر آرہی ہے۔اس ملک میں بڑی تعداد میں ایشیائی تارکین وطن موجود ہیں، کرکٹ کی خبروں اور اسکورز کیلیے انٹرنیٹ کے استعمال میں امریکا دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔مختلف ممالک کے بورڈز اور آئی سی سی کا متوازی ایڈریس بھی رجسٹر کرنے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کمپنی بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرکے عالمی سپر پاور کے پلیٹ فارم پر ایک نئی لیگ کرانے کیلیے پر تول رہی ہے،ایک اور باغی ایونٹ سے کرکٹ کو کئی خانوں میں تقسیم کیے جانے کا خدشہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…