جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

ہر میچ نہیں جیتا جاسکتا،کھلاڑیوں پر تنقید کا سلسلہ بند کیا جائے،مصباح الحق

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ورلڈکپ نہ جیتنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں پر تنقید کا سلسلہ بند کیا جائے،ہر میچ نہیں جیتا جاسکتا ۔ کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کا نقصان پاکستان اور قومی ٹیم کو ہی ہوگا ۔ تنقید کا سلسلہ چلتا رہا تو ایک دن کوئی کپتان بننا چاہے گا اور نہ ہی آپ کو کوئی کپتان ملے گا ۔بھارت کو شکست اور جنوبی افریقا کے خلاف اس کے ہوم گراونڈ میں فتح یادگار لمحات تھے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہاکہ بات بات پر تنقید سے اصلاح ہوتی ہے نہ ہی کبھی بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے ، ایسا نہیں کہ آپ ہر میچ جیت جائیں، کپتانی کے دور میں میچز جیتنے کے باوجود مجھے مسلسل تقنید کا نشانہ بنایا جاتا رہا، کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کا نقصان پاکستان اور قومی ٹیم کو ہی ہوگا۔انہوںنے کہاکہ قومی ٹیم میں ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنے تک بات ٹھیک ہے لیکن جیسے ہی آپ کپتان بنیں محسوس ہوتا ہے کئی لوگ خواہ مخوا آپ کے دشمن بن گئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا اور لوگوں کی بے جا تنقید کا یہی سلسلہ چلتا رہا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ کوئی کپتان ملے گا اور نہ کوئی بننا چاہے گا۔تنقید سے دلبرداشتہ مصباح نے تجویز دی کہ جس طرح ٹیم میں کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتاہے ویسے ہی میڈیا کے نمائندوں کو بھی منتخب کیا جانا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں مصباح نے کہاکہ اپنی کپتانی میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتوانا چاہتا تھا ایسا نہیں ہوسکا جس کا بے حد افسوس رہے گا، کئی ایسی سیریز جو جیتنی چاہئیں تھیں تاہم نہیں جیت سکے، ون ڈے رینکنگ بہتر نہ ہونے کا افسوس رہے گا۔مصباح نے اپنی کپتانی کے خوشگوار ترین لمحات کا تذکرہ کرتے



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…