پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

مسلسل پانچویں ون ڈے سیریز میں ہار کے بعد وقار یونس کے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا

datetime 21  اپریل‬‮  2015 |

میر پور( نیوز ڈیسک) مسلسل پانچویں ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد پاکستانی کوچ وقار یونس کے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔مگر وہ بہتری کیلیے عملی اقدامات کرنے کے بجائے وضاحتیں دینے میں ہی مصروف ہیں، گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں سابق فاسٹ بولر نے کہاکہ ہم دفاعی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں،اس انداز کو تبدیل کرنے کیلیے وقت درکار ہوگا،نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتے،ناقدین کی بات تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستانی کرکٹ مسائل کا شکار ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہیڈ کوچ وقاریونس ایک سال سے پاکستان ٹیم کی کوچنگ کررہے ہیں۔اس دوران گرین شرٹس اپنی پانچوں ون ڈے سیریز ہار چکے،2 میں نیوزی لینڈ نے زیر کیا، سری لنکا،آسٹریلیا اور اب بنگلہ دیش بھی بھاری ثابت ہوا، ورلڈکپ میں بھی ٹیم کوارٹر فائنل سے آگے نہ بڑھ پائی، ایسے میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ہر ماہ 14لاکھ روپے کے عوض ان کی خدمات حاصل کرنے کا کوئی فائدہ بھی ہے، اسکواڈ کی تشکیل، ٹریننگ، کھلاڑیوں کی تکنیک اور مزاج کو جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے ہی انھیں اتنی مراعات دی جاتی ہیں۔مگر ٹیم جیت کے جذبے سے سرشار نظر آنے کے بجائے شکست کے خوف میں مبتلا نظر آتی ہے،اس کاعملی مظاہرہ بنگال ٹائیگرز سے سیریز کے دونوں میچز میں دکھائی دیا،گذشتہ روز ایک انٹرویو میں وقار یونس اپنی ہی پروڈکٹ میں خامیاں نکالتے نظر آئے،انھوں نے کہا کہ ناقدین کی یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ مسائل کا شکار ہے، بنگلہ دیش سے سیریز ہارنا تلخ اور تکلیف دہ تجربہ ہے، یہ ماننا پڑے گا کہ ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی جبکہ میزبان ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ہمیں اپنے کھیلنے کا انداز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،ایک عرصے سے دفاعی کرکٹ کھیلتے چلے آرہے ہیں،اس مزاج سے نکلنے میں وقت لگے گا، البتہ اگر ہمیں نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ فٹنس ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…