لندن(نیوزڈیسک) ہزاروں سال کے عرصے میں کم ازکم 93 معاشروں اور تہذیبوں میں انسان دوسرے انسان کی قربانی دیتے آرہے ہیں اور یہ عمل ان کی حاکمیت برقرار رکھنے اور عوام کو دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔میکسیکواور
پیرو کی تہذیبوں میں ہرسال ہزاروں افراد کودیوتائوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے جس کا پسِ پردہ مقصد طبقاتی نظام کو زندہ رکھنا اور معاشرے میں ذات پات کو مستحکم رکھنا تھا۔ ایشیا، افریقا اور امریکا کی دیگر تہذیبوں میں انسانوں کو ذبح کرنے، کشتیوں میں بہانے، اور زندہ درگور کردینے کے واقعات عام تھے۔ ماہرینِ کے مطابق عموماً نچلی ذات کے کمزور ترین افراد کی قربانی دی جاتی تھی جب کہ مذہبی پیشوا اور بادشاہ ان کی قربانی کا فیصلہ کرتے تھے اور نچلے طبقات کو خوفزدہ کرکے اپنا رعب گھانٹتے تھے۔ میکسیکو کی ازطق تہذیب میں جنگی قیدیوں اور غلاموں کو قربان کیا جاتا تھا تاہم اس سیاسی جھگڑوں میں انسان ایک دوسرے کو کھایا بھی کرتے تھے۔یونیورسٹی آف آکلینڈ اور ویلنگٹن، میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومن ہسٹری اور دیگر اداروں نے اس اہم تحقیق میں حصہ لیا ہے جس کا مقصد انسانی تہذیب میں انسانوں کی قربانی کا جائزہ لینا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی قربانی سے اشرافیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے میں مدد ملتی تھی اور سماج پر ان کا کنٹرول برقرار رہتا تھا۔



















































