بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

سرور کائنات ﷺ کے معجزات، جنہیں پڑھ کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

شق القمر:۔ رسول اکرمﷺ نے ہجرت سے پہلے کفار مکہ پر اتمام حجت کے لئے شق قمر کا معجزہ دکھایا۔ قرآن بھی اس کی شہادت دیتا ہے۔ سورہ قمر میں ارشاد ہے’’قیامت نزدیک آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور کفار جب کوئی بڑا نشان دیکھیں تو اس سے اعراض ہی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے‘‘۔ (القمر۱،۲) صحیح بخاری، صحیح مسلم، ترمدی اور حدیث کی دوسری کتابوں میں شق قمر کے معجزے کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت علیؓ جیسے کبار صحابہ شامل ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضوؐر کے عہد میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے ادھر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ’’دیکھو گواہ رہنا‘‘۔حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسولﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپؐ ان کو کوئی بڑا نشان دکھائیں۔ آپؐ نے انہیں چاند کا پھٹنا دکھایا، اس کے دو ٹکڑے تھے ایک حرا کے اس طرف تھا دوسرا اس طرف۔بعض لوگ معجزہ شقِ قمر کا انکار کرتے ہیں لیکن یہ صحیح روایات سے ثابت ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ نے ایک رسالہ ’’دفع اعتراضات معجزہ شق القمر‘‘ لکھا ہے اس میں تمام اعتراضات کے جواب دیئے گئے ہیں۔شفائے امراض:۔حضور اکرمؐ کے معجزات میں شفائے امراض کے معجزات بھی شامل ہیں۔ مثلاً غزوہ خیبر میں حضرت سلمہ بن اکوعؓ کی پنڈلی پر زخم آگیا تھا۔ حضوؐر نے تین بار دم کیا اور وہ بالکل اچھا ہو گیا۔ حضرت عبداللہؓ بن عتیک ابورافع یہودی کو کیفرکردار کو پہنچا کر واپس آ رہے تھے کہ پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حضوؐر نے اپنا دست مبارک پھیرا اور پنڈلی آناً فاناً ٹھیک ہو گئی۔ محمد بن حاطبؓ جب بچے تھے تو ان کا ہاتھ جل گیا، ان کی والدہ آنحضرتؐ کے پاس لے کر آئیں، حضوؐر نے جلے ہوئے ہاتھ پر اپنا دست مبارک پھیرا اور پھر لعاب دہن لگا کر دعا کی وہ اسی وقت اچھا ہو گیا۔

غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علیؓ کا آشوب چشم بھی حضوؐر کے دم کرنے اور لعاب دہن لگانے سے اچھا ہوا تھا۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ ایک عورت اپنا گونگا بچہ لے کر حجتہ الوداع میں آنحضوؐر کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ حضوؐر نے پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے، کْلی کی اور وہ پانی اسے دے کر فرمایا کچھ اس بچے کو پلا دو اور کچھ اس پر چھڑک دو اس روایت کی راوی صحابیہ حضرت اْم جندبؓ فرماتی ہیں کہ اگلے سال اس عورت سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ بچہ اب بالکل تندرست تھا۔

شفائے امراض کے بہت سے معجزات احادیث کی کتابوں میں درج ہیں اور ان کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔ کھانے پینے کی اشیا میں برکت:۔ حضوؐر کی دعا سے کھانے پینے کی اشیاء میں برکت ہوتی تھی اور وہ تھوڑی ہونے کے باوجود زیادہ ہو جاتی تھیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک بار ایک صاع آٹے سے روٹی پکاءی گئی اور اسے ایک سو تیس آدمیوں نے کھایا اور پھر بھی بچ رہی۔ حضوؐر نے ایک بار دودھ کا ایک پیالہ حضرت ابوہریرہؓ کو دیا کہ اصحابِ صفہ کو پلاؤ۔ ابوہریرہؓ دل میں سوچنے لگے کہ

ایک پیالہ دودھ اتنے آدمیوں کے لئے کہاں سے بس ہو گا لیکن سب نے دودھ پیا اور پھر بھی بچ رہا۔ اسے پھر حضرت ابوہریرہؓ نے پیا اور آخر میں حضور اکرمؐ نے پیا۔ اس قسم کے معجزات کے دوسرے واقعات بھی کتب احادیث میں بہت بیان کئے گئے ہیں۔ اسی طرح پانی کی قلت کے موقع پر بھی یہ ہوا ہے کہ غیب سے پانی نمودار ہو گیا یا اچانک بارش ہونے لگی۔ صحیح بخاری میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن پانی کی قلت ہو گئی۔ لوگ پیاس سے گھبرا گئے۔ حضوؐر نے ایک برتن میں اپنا دست مبارک ڈالا

اور آپؐ کی انگلیوں سے پانی چشمے کی طرح نکلنے لگا۔ سب نے سیر ہو کر پیا اور وضو کیا۔ دشمنوں سے حفاظت:۔ مشرکین عرب اور یہودی شرپسند اکثر و بیشتر حضوؐر کی زندگی کے خلاف منصوبے بنایا کرتے تھے لیکن اللہ نے رسولؐ کی حفاظت اپنے ذمے لے رکھی تھی اس لئے وہ کبھی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایک دفعہ ابوجہل نے حضوؐر پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کین لیکن عین وقت پر یہ دیکھا کہ اس کے اور رسول اللہ کے درمیان آگ کی خندق حائل ہے اور وہ گھبرا کر پیٹھے ہٹ گیا۔

ابولہب کی بیوی نے ایک بار حضوؐر پر حملے کا منصوبہ بنایا لیکن اس کی آنکھوں پر غیبی پردہ پڑ گیا اور حضوؐر اسے نظر ہی نہیں آئے۔ رسولﷺ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینے آئے تو صحابہ کرام کو کفار کی طرف سے شرارت کا خدشہ ہوا صحابہ بار باری پہرہ دیا کرتے تھے حضوؐر نے کہا کہ کسی پہرے کی ضرورت نہیں اور پھر سورہ مائدہ کی یہ آیت ترجمہ ’’اور اللہ لوگوں سے تیری حفاظت کرے گا‘‘ اس وعدہ الٰہی کے مطابق حضوؐر کی ہمیشہ دشمنوں سے حفاظت ہوتی رہی۔ غیر مستند روایات:وہ تمام روایتیں جن میں آنحضرتﷺ کے معجزے سے حضرت آمنہ یا کسی اور مردہ کے زندہ ہونے کا بیان ہے وہ سب جھوٹی اور بنائی ہوئی ہیں۔

وہ معجزے جن میں گدھے، اونٹ، بکری، ہرن، شیر وغیرہ جانوروں کے انسانوں کی طرح بولنے یا کلمہ پڑھنے کا ذکر ہے بہ روایت صحیحہ ثابت نہیں ہیں۔ ایسی روایتیں جن میں آنحضرتﷺ کے لئے آسمان سے خوان نعمت یا جنت سے میووں کے آنے کا ذکر ہے موضع ہیں یا ضعیف ہیں۔ وہ روایتیں جن میں حضرت خضرؑ یا الیاسؑ سے ملنے یا ان کے سلام و پیام بھیجنے کا بیان ہے صحت سے خالی ہیں۔ عوام میں مشہور ہے کہ آنحضرتﷺ کے سایہ نہ تھا یا جب حضوؐر دھوپ میں چلتے تھے تو ابر سایہ کے ساتھ ساتھ رہتا تھا یہ سب باتیں کسی روایت صحیح سے ثابت نہیں ہیں۔ روایت ہے کہ آپؐ قضائے حاجت سے واپس آتے تھے تو وہاں کوئی نجات باقی نہیں رہتی تھی

یہ سر تا پا موضوع ہے۔ واعظوں میں مشہور ہے کہ ابوجہل کی فرمائش پر اس کے ہاتھ کی کنکریاں آنحضرتؐ کے معجزے سے کلمہ پڑھنے لگیں لیکن یہ ثابت نہیں۔ایک روایت ہے کہ آنحضرتﷺ کا چہرہ مبارک اس قدر روشن تھا کہ اندھیرے میں آپؐ جاتے تھے تو اجالا ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ رات کو حضرت عائشہؓ کے ہاتھ سے سوئی گر ئی، تلاش کی، نہیں ملی۔ دفعتاً آپؐ تشریف لائے تو چہرہ مبارک کی روشنی میں سوئی چمک اٹھی اور مل گئی یہ بالکل جھوٹ ہے۔ علامہ سید سلمان ندوی مرحوم نے سیرۃ النبی کی تیسری جلد میں جو معجزات نبوی کے متعلق ہے غلط مگر مشہور عام دلائل و معجزات کی روایتی حیثیت پر بحث کی ہے۔ انہوں نے اس روایت کی صحت میں کلام کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح و قلم، عرش، کرسی، جن و انس غرض سب سے پہلے نور محمدی کو پیدا کیا۔ اور پھر باقی سب چیزیں اس نور محمدی سے پیدا ہوئیں۔ روایتوں میں ہے کہ یہ نور پہلے ہزاروں برس سجدے میں پڑا رہا پھر حضرت آدمؑ میں منتقل ہوا پھر حضرت آمنہ تک پہنچا۔۔

سب سب کو علامہ سید سلیمان ندوی نے غلط بتایا ہے اسی طرح وہ ان روایات کو بھی غلط بتاتے ہیں کہ حضورﷺ کی پیدائش کے موقع پر کسریٰ کے محل میں زلزلہ پڑ گیا اور اس کے چودہ کنگرے گر پڑے اور فارس کا آتش کدہ جو ہزاروں برس سے روشن تھا اچانک بجھ گیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی حضوؐر کی پیدائش کے موقع پر غیبی آوازوں یا فرشتوں کے آنے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ اور اس طرح کی روایتوں کو بھی غلط بتاتے ہیں کہ جب حضرت آمنہ کو دردِ زہ ہوا تو معلوم ہوتا تھا کہ ستارے زمین پر جھکے آتے ہیں اور جدھر نظر جاتی وہاں روشنی ہی روشنی تھی۔ ایسے ہی حضور اکرمؐ کے بچپن کے زمانے میں حضوؐر کے شق صدر کے واقعہ کی روایات کو بھی سید سلیمان ندوی نے ضعیف بتایا ہے اور کہا ہے کہ شق صدر کا واقعہ معراج میں پیش آیا تھا نہ کہ حضوؐر کے بچپن میں۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا’’سب سے پہلے جس چیز کو اسلام میں الٹا جائے گا جس طرح بھرے برتن کو الٹا جاتا ہے وہ شراب ہو گی‘‘۔ پوچھا گیا ’’یہ کیوں کر ہو گا یا رسولؐاللہ؟ شراب کے بارے میں اللہ نے صاف صاف اور واضح حکمِ ممانعت دے دیا ہے۔ فرمایا ’’اس شراب کا کوئی اور نام رکھ لیں گے اور پھر اس کو حلال قرار دے دیں گے‘‘۔ (سنن دارمی)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…