ایک رات کسی بڑے طاقتور چور نے رستم کے اصطبل سے اس کا گھوڑا چرا لیا۔ اگرچہ رستم اس وقت جاگ رہا تھا مگر اس کا خیال تھا کہ میرے منہ زور گھوڑے پر کوئی سوار نہیں ہوسکتا۔ اس لئے چپ چاپ تماشا دیکھتا رہا لیکن جب چور گھوڑے پر
سوار ہو کر اسے باہر لے گیا تو رستم خاموش نہ رہ سکا۔ گھر سے نکل کر وہ دوڑ لگائی کہ چور کے سر پر جا بیٹھا اور چھلانگ لگا کر گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا مگر بہادر چور نہ ڈرا اور نہ کچھ گھبرایا۔ بڑی بے تکلفی سے پوچھنے لگا کہ تم کون ہو؟ رستم نے چور کو اتنا نڈر دیکھا تو چپکے سے اسے پانچ سات زور کے مکے لگا دیئے مگر چور انہیں بھی کچھ نہ سمجھا اور کہا بھی تو یہ کہ ارے میاں! یہ کیا مسخرہ ہے۔ آرام کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھتے؟ چور کی زبان سے یہ فقرہ سن کر رستم کے اور بھی اوسان خطا ہو گئے کہ جو شخص میرے گھونسوں کو مسخرہ کہتا ہے وہ کشتی سے کب زیر ہو گا۔ پس یہاں کچھ اور ہی داؤ کھیلنا چاہئے۔ یہ سوچ کر رستم نے گھبرائی ہوئی آواز سے کہا۔ لو دوست! میں تو چلا، وہ دیکھو گھوڑے کا مالک رستم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی چور فوراً گھوڑے سے کود پڑا اور رستم گھوڑا لے کر گھر پہنچ گیا۔ واقعی بعض دفعہ نام بھی بڑا کام دے جاتا ہے مگر نام بھی بغیر کام کے نہیں بنتا۔



















































