بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

سزا یا جزا

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

وہ ڈائین آﺅٹ ڈے تھا اورہم لاہور کے ایک مہنگے ریسٹورینٹ سے کھاناکھا چکے تو کچھ کھاناوافر ہو گیا، اتنا کہ ایک یا دو لوگوں کے لئے کافی ہو۔ میں نے برتن اٹھاتے ویٹر سے وافر کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا‘اسے پیک کر دو‘ویٹر نے طنزیہ نگاہوں اور لہجے میں کہا ‘اس کو ؟ میں نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا‘ جی اس کو۔گھر والوں نے میری اس حرکت پر مجھے دیکھا تو میں نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے اپنا تقویت دہ فقرہ دہرایا کہ کون پرواہ کرتا ہے‘

ہوکیئرز؟بل ادا کرنے کے بعد‘ ویٹر نے پیک کھانے کا ڈبہ میز کے درمیان رکھ دیا‘ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ اسے کون اٹھائے گا؟ میں نے ڈبہ اٹھاتے ہوئے کہا’میں کس لئے ہوں‘ واپسی پراللہ ہو چوک سے ذرا پہلے ایک خاتون دری پر بیٹھی مانگ رہی تھی اورپاس ہی اس کاچھوٹا سا بیٹا کھیل رہا تھا۔میں نے اس کے پاس گاڑی روکی اورڈیش بورڈ پر پڑاکھانے کا ڈبہ ساتھ بیٹھی والدہ کو دے کر‘ شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا’یہ اسے پکڑا دیں‘ جیسے ہی امی نے کھانا پکڑانے کے لئے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اس خاتون نے کھانا پکڑنے کے ساتھ ہی امی کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراس پر اپنی دونوں آنکھیں لگا کر چومتے ہوئے کہا‘اللہ بھلا کرے‘کافی دیر دے بھکے سی‘ جسم وچ جان وی نئیں سی کہ کچھ کھان نوں لے آندے(کافی دیر کے بھوکے تھے‘ جسم میں جان بھی نہیں تھی کہ کچھ کھانے کو لے آتے)۔وہ جلدی سے پیکٹ کھول کرخود بھی کھانے لگی اوربچے کو بھی کھلانے لگی۔میں نے مڑ کرسب کو دیکھا‘اب دیکھنے کی باری میری تھی اور کہا’ہم ویٹر کی نظروں میں امیر نظر آنے کی کوشش میں اتنی بڑی نیکی سے محروم ہو جاتے۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اللہ کو جواب دہ ہیں ویٹریا لوگوں کو نہیں کیونکہ بے شمار لوگ ہمارے عمل کے ایک حصہ کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں مگر اللہ ہمارے پورے عمل سے واقف ہوتا ہے‘ وہ ہمیں اسی کے مطابق سزا یا جزا دیتا ہے۔۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…