وہ ڈائین آﺅٹ ڈے تھا اورہم لاہور کے ایک مہنگے ریسٹورینٹ سے کھاناکھا چکے تو کچھ کھاناوافر ہو گیا، اتنا کہ ایک یا دو لوگوں کے لئے کافی ہو۔ میں نے برتن اٹھاتے ویٹر سے وافر کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا‘اسے پیک کر دو‘ویٹر نے طنزیہ نگاہوں اور لہجے میں کہا ‘اس کو ؟ میں نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا‘ جی اس کو۔گھر والوں نے میری اس حرکت پر مجھے دیکھا تو میں نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے اپنا تقویت دہ فقرہ دہرایا کہ کون پرواہ کرتا ہے‘
ہوکیئرز؟بل ادا کرنے کے بعد‘ ویٹر نے پیک کھانے کا ڈبہ میز کے درمیان رکھ دیا‘ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ اسے کون اٹھائے گا؟ میں نے ڈبہ اٹھاتے ہوئے کہا’میں کس لئے ہوں‘ واپسی پراللہ ہو چوک سے ذرا پہلے ایک خاتون دری پر بیٹھی مانگ رہی تھی اورپاس ہی اس کاچھوٹا سا بیٹا کھیل رہا تھا۔میں نے اس کے پاس گاڑی روکی اورڈیش بورڈ پر پڑاکھانے کا ڈبہ ساتھ بیٹھی والدہ کو دے کر‘ شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا’یہ اسے پکڑا دیں‘ جیسے ہی امی نے کھانا پکڑانے کے لئے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اس خاتون نے کھانا پکڑنے کے ساتھ ہی امی کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراس پر اپنی دونوں آنکھیں لگا کر چومتے ہوئے کہا‘اللہ بھلا کرے‘کافی دیر دے بھکے سی‘ جسم وچ جان وی نئیں سی کہ کچھ کھان نوں لے آندے(کافی دیر کے بھوکے تھے‘ جسم میں جان بھی نہیں تھی کہ کچھ کھانے کو لے آتے)۔وہ جلدی سے پیکٹ کھول کرخود بھی کھانے لگی اوربچے کو بھی کھلانے لگی۔میں نے مڑ کرسب کو دیکھا‘اب دیکھنے کی باری میری تھی اور کہا’ہم ویٹر کی نظروں میں امیر نظر آنے کی کوشش میں اتنی بڑی نیکی سے محروم ہو جاتے۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اللہ کو جواب دہ ہیں ویٹریا لوگوں کو نہیں کیونکہ بے شمار لوگ ہمارے عمل کے ایک حصہ کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں مگر اللہ ہمارے پورے عمل سے واقف ہوتا ہے‘ وہ ہمیں اسی کے مطابق سزا یا جزا دیتا ہے۔۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کےلئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔



















































