بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

ڈاکہ ڈالنےکے لیے ساتھ جانا ہے

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

ڈاکو کے بیٹے نے ضد کرنا شروع کردی کہ اسے بھی ڈاکہ ڈالنےکے لیے ساتھ جانا ہے مگر باپ یہی کہتا رہا کہ تو ابھی اس قابل نہیں ہوا۔ بالآخر بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے اور اس شرط پر ساتھ لے جانے کے لیے رضامند ہوگیا کہ پہلے ٹریننگ مکمل کرنا ہوگی۔ بیٹا خوش ہوگیا اور ٹریننگ شروع ہوگئی۔ باپ نے تمام تر حربے سکھائےہر طرح کے داؤپیچ جو اس کے کام آسکیں سکھادئیے۔

بیٹا اب تک ہر امتحان پر پورا اتر رہا تھا۔ جب دیکھا بیٹا ہر لحاظ سے تیار ہے تو اسے پچاس فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے کو کہا۔ یہ اس کا آخری امتحان تھا۔ وہ اتنی بلندی پر پہنچ کر ڈرنے لگا۔ یہ آخری امتحان اسے قطعی ناممکن دکھائی دے رہا تھا لہذٰا نیچے اتر آیا اور کہنے لگا کہ اتنی بلندی سے کودنے سے اس کی موت واقع نا بھی ہوئی تو بھی کم سے کم معذور ضرور ہوجائے گا اس کے باپ نے تسلّی دی اور کہا کچی زمین ہے تمہیں کچھ نہیں ہوگا ہمت کرکے کود جاؤ۔ بیٹا نہیں مان رہا تھا مگر اس کا باپ مسلسل اصرار کرتا رہا اور کہتا رہا دیکھو میں ہوں نا نیچے۔ مجھ پر بھروسہ رکھو اور کود جاؤ۔ امتحان سر کرنا بیحد ضروری تھا۔ بیٹا ڈرتے ڈرتے آخر کود ہی گیا۔ اس کے بعد اس کی آنکھ ہسپتال میں کھلی جہاں بائیں جانب اس کا باپ اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ہوش میں آتے ہی شکوہ شروع کردیا کہ میں نا کہتا تھا کہ چوٹ لگ جائے گی۔ یہ کیسا امتحان تھا جس میں شکست واضح دکھائی دے رہی تھی۔ نتیجتاً میں ناکام رہا۔ کیا یہی اس کا مقصد تھا؟ تو اس کے باپ نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “ہاں تم بری طرح ناکام رہے اس امتحان کا مقصد تمہیں یہ سبق سکھانا تھا کہ جو کام تمہارا دل اور تمہاری عقل تسلیم نہیں کرتی

اسے کرنے کو خواہ تمہارا باپ بھی بولے تو مت کرو” ہم جس پر اعتماد کرتے ہیں اس کی اسی قدر اندھی تقلید میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ گہری کھائی میں کودنے کا کہتا ہے اور ہم نعرے لگاتے ہوئے کود جاتے ہیں۔بعد میں ایک دوسرے کو بتا رہے ہوتے ہیں “ہاں یار میرا دل بھی مطمئن نہیں تھا۔ ہاں مجھے بھی غلط لگ رہا تھا۔ بالکل ایسا نہیں ہونا چاہئیےتھا۔ وہ ایسا لگتا تو نہیں تھا جیسا کر گزرا ہے۔۔ خیر خود آگے جا کر بھرے گا”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…