ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

مرنے والے کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟ ایسا راز جس کا جواب اللہ کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں ہی دیدیا تھا

datetime 4  جولائی  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عموماََ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں ۔ اس حوالے سے سائنسی توجیہات بھی پیش کی جاتی ہیں تاہم اس سوال کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟کا جواب خود سرور کونین ، والی دو جہان حضرت محمدﷺ نے دیتے ہوئے رب تعالیٰ کے اس راز سے قیامت تک آنے والے انسانوں کو آگاہ فرما دیا تھا ۔

آپؐ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔ احادیث کی مستند کتابوں ابو مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق جب صحابی رسولؐ حضرت ابو سلمہؓ کا آخری وقت آیا تو رسول کریمؐ ان کی عیادت کیلئے تشریف لائے وہ اس وقت نزع کے عالم میں تھے ، گھر میں افسردگی کا ماحول تھا اور گھر کے ایک گوشے میں خواتین رو رہی تھیں۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں‘‘جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا تو آپﷺ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔اس موقع پر آپ نے ابو سلمہؓ کے گھر کی خواتین جو رو رہی تھیں ان کو تلقین فرمائی کہ آپﷺ نے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔حضرت ابو سلمہؓ کی وفات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہؓ کے لیے یوں دعا فرمائی’’ اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتہ افراد (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے ‘‘۔

روایت میں آتا ہے کہ یہ حضرت ابو سلمہ ؓ ہی تھے کہ جن کی نماز جنازہ کے دوران رسول اللہﷺ نے پہلی بار 9تکبریں فرمائیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…