بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

مرنے والے کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟ ایسا راز جس کا جواب اللہ کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں ہی دیدیا تھا

datetime 4  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عموماََ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں ۔ اس حوالے سے سائنسی توجیہات بھی پیش کی جاتی ہیں تاہم اس سوال کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں؟کا جواب خود سرور کونین ، والی دو جہان حضرت محمدﷺ نے دیتے ہوئے رب تعالیٰ کے اس راز سے قیامت تک آنے والے انسانوں کو آگاہ فرما دیا تھا ۔

آپؐ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔ احادیث کی مستند کتابوں ابو مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق جب صحابی رسولؐ حضرت ابو سلمہؓ کا آخری وقت آیا تو رسول کریمؐ ان کی عیادت کیلئے تشریف لائے وہ اس وقت نزع کے عالم میں تھے ، گھر میں افسردگی کا ماحول تھا اور گھر کے ایک گوشے میں خواتین رو رہی تھیں۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں‘‘جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا تو آپﷺ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔اس موقع پر آپ نے ابو سلمہؓ کے گھر کی خواتین جو رو رہی تھیں ان کو تلقین فرمائی کہ آپﷺ نے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔حضرت ابو سلمہؓ کی وفات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہؓ کے لیے یوں دعا فرمائی’’ اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتہ افراد (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے ‘‘۔

روایت میں آتا ہے کہ یہ حضرت ابو سلمہ ؓ ہی تھے کہ جن کی نماز جنازہ کے دوران رسول اللہﷺ نے پہلی بار 9تکبریں فرمائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…